اسدی فوجی قتل کرنے پر شامی شہری کو سویڈن میں عمر قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سویڈن کی ایک عدالت نے شامی صدر بشارالاسد کے وفادار فوجیوں کے ایک گروپ کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارنے کے الزام میں شامی شہری کو عمر قید اور ملک بدری کی سزا کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 46 سالہ شامی ھیثم سخنہ پر الزام ہے کہ اس نے مئی 2012ء میں ادلب شہر میں گرفتار کیے گئے سات سرکاری فوجیوں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔رپورٹ کے مطابق سخنہ کو پولیس نے مارچ 2016ء میں حراست میں لیا تھا۔ اس پر سنگین نوعیت کے جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

سویڈش پراسیکیوٹر جنرل نے شامی اپوزیشن کے حامی جنگجو کو عمر قید کی سزا سنانے کے لیے کئی شواہد پیش کیے ہیں۔ ان میں ایسی ویڈیوز بھی شامل ہیں جن میں اسے فوجیوں کو قتل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان ویڈیوز میں امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج بھی شامل ہے یہ فوٹیج ستمبر 2013ء میں نشر کی گئی تھی جس میں اسے شامی اپوزیشن کے حامی ’سلیمان جنگجو گروپ‘ کے دوسرے ارکان سمیت شامی فوجیوں کے ایک گروپ کو گولیاں مارتے دکھایا گیا تھا۔

سویڈن کے سرکاری ریڈیو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے ویڈیوز فوٹیج میں اپنی موجودگی کا انکار نہیں کیا۔ تاہم عدالت میں اس کے خلاف جاری کیس کی سماعت کے دوران ایک بار اس نے کہا تھا کہ اسدی فوجیوں کو شام کے قانون کے تحت عدالت کے حکم پر موت کےگھاٹ اتارا گیا تھا۔ قتل کیے گئے فوجی بھی معصوم شہریوں کے قتل اور خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی میں ملوث تھے۔

تاہم اسٹاک ہوم کی پراسیکیوٹر کریسٹینا لینڈھوف کارلیسن کا کہنا ہے کہ جب شامی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اس وقت وہاں پر کوئی ایسی عدالت نہیں تھی جو ملزمان کے خلاف عاید الزامات کی منصفانہ انداز میں کیسز کی سماعت کرتی۔ شامی فوجیوں کو ان کےپکڑے جانے کے محض دو دن کے بعد موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔ انہوں نے استفسارکیا تھا کہ ایسی کون سی عدالت تھی جس نے صرف دو دن قبل ہی سات فوجیوں کو سزائے موت سنا دی تھی۔

ملزم کے وکیل صفائی نے سویڈش ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل کو کبھی یہ پتا نہیں چل سکے گا کہ شام میں عینی شاہدین کی عدم موجودگی میں عدالتیں کیسے فیصلے کرتی ہیں؟

سویڈن کی عدالتوں نے شام میں جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کے خلاف تحقیقات اور سزائوں کا سلسلہ فروری 2015ء میں شروع کیا تھا۔ آغاز میں سویڈن کی ایک عدالت نے شام کی ’جیش الحر‘ کے ایک جنگجو کو شامی فوج کے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سویڈش ذرائع ابلاغ کے مطابق 28 سالہ مہند الدروبی پہلے شامی شہری ہیں جنہیں سویڈن کی عدالت سے جنگی جرائم کے الزام میں قید کی سزا کا حکم دیا۔

الدروبی 2013ء سے سویڈن میں قانونی طور پرمقیم تھے۔ سنہ 2012ء میں سامنے آنے والی ایک تصویری فوٹیج میں اسے اپوزیشن کے دوسرے اہلکاروں کے ہمراہ پکڑے گئے ایک شامی فوجی کو تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا گیا تھا۔ عدالت نے اس واقعے کو جنگجو نہ ہونے کے باوجود ایک نہتے شخص کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا تھا۔

دسمبر 2015ء میں سویڈن کے شہر گوٹنبرگ کی ایک عدالت نے شام سے تعلق رکھنے والے امین سلطان اور ھسان مصطفیٰ المندلاوی کو عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان دوںوں کی عمریں 30 اور 32 سال کے درمیان ہیں۔ ان پر شام میں متعدد افراد کو ذبح کرنے اور دیگر جنگی جرائم کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں