.

الشیخ عمرعبدالرحمان کی مصر میں تدفین کی وصیت کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں دوران حراست انتقال کرنے والے مصرکے نابینا عالم دین الشیخ عمر عبدالرحمان کے صاحبزادے نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے والد نے وصیت کی تھی کہ فوت ہونے کےبعد مجھے اپنے ملک مصر میں آبائی شہرہی میں دفن کیا جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سےبات کرتے ہوئے مرحوم الشیخ عمر عبدالرحمان کے بیٹے ابراہیم عمر عبدالرحمان نے کہا کہ ان کے والد نے قطر میں تدفین کی بات نہیں کی تھی بلکہ انہوں نے وصیت کی تھی اگر میری موت مصر سے باہر ہوئی تومجھے کسی دوسرے ملک میں دفن کرنے کے بجائے الدقھلیہ گورنری میں آبائی شہر الجمالیہ میں سپرد خاک کیا جائے۔

ابراہیم نے بتایا کہ ہفتے کے روز امریکی حکام نے ان کےخاندان سے رابطہ کرکے الشیخ عبدالرحمان کی وفات کی خبر دی۔ اس کے علاوہ سابق وزیر انصاف اور ان کے والد کے وکیل رمزی کلارک، فلسطینی وکیل اشرف النوبانی نے بھی ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔ فلسطینی وکیل اشرف النوبانی امریکا میں پابند سلاسل الشیخ عمر عبدالرحمان ، مصری حکام اور امریکی حکام سے بھی رابطے میں رہے ہیں۔ انہوں نے الشیخ عمر عبدالرحمان کی میت مصر منتقل کرنے کے حوالے سے بھی امریکا اور مصر کی حکومتوں سے رابطہ کیا ہے۔

مصر میں جماعت اسلامی کے میڈیا ایڈ وائزر خالد الشریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مرحوم الشیخ عبدالرحمان کے خاندان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ الشیخ عمر کاجسد خاکی قطر منتقل کرے تاہم ابراہیم نے اس خبر کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے خاندان تدفین کے لیے نہیں بلکہ ان کی زندگی میں علاج کے لے قطر منتقل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ ابراہیم نے بتایا کہ ان کے والد کچھ عرصے سے کینسر، شوگر اور فشار خون جیسے امراض کا شکار تھے اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کی وصیت پر عمل درآمد کرانے کی پوری کوشش کریں گے۔ ان کی میت مصر لائی جائے گی جہاں ان کی وصیت کے مطابق آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ شیخ عمر عبدالرحمان کو سنہ 1990ء میں امریکا میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں تاحیات عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور ہفتے کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ان کے خاندان نے موت کی تصدیق کی ہے۔

نوے کی دہائی کے اوائل میں شیخ عمر عبدالرحمان نے امریکا کی اسرائیل اور مصر کی حمایت کو روکنے کے لیے نیویارک شہر کے متعدد مقامات پر بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

شیخ عمر عبدالرحمان نابینا تھے اور نیویارک کی ایک مسجد میں مبلغ تھے جبکہ 1996 میں انھیں قید کی سزا ہوئی تھی۔

انور سادات کے قتل کا فتویٰ؟

نابینا مصری عالم دین الشیخ عمر عبدالرحمان پر مصر کے سابق صدر انور سادات کے قتل کا فتویٰ صادر کرنے کا بھی الزام عاید کیا جاتا ہے۔

انور سادات کو مصری فوج کے ایک افسر خالد اسلام بولی کی قیادت میں جماعت اسلامی مصرے وابستہ ایک گروپ نے جب قتل کیا تو اس وقت الشیخ عمر عبدالرحمان جماعت اسلامی کے مفتی تھے۔ ان سے جماعت کے ایک رکن نے پوچھا کہ ’ کیا اللہ کے احکامات اور تعلیمات پر عمل درآمد نہ کرنے والے حکمران کا قتل جائز ہے؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’ہاں! جو حکمران اللہ کے بتائے احکامات کے مطابق فیصلے نہ کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس کا قتل جائز ہے‘۔

مصر میں جماعت اسلامی کے ایک بانی رکن اسامہ حافظ نے 25 جنوری 2011ء کے انقلاب کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ انور سادات کے قتل کے حوالے سے جماعت کی قیادت میں اتفاق رائے نہیں تھا۔ عبود الرمز نے صدر مملکت کے منصوبہ بندی کی مخالفت کی۔ مگر 28 ستمبر کو دوسرے اجلاس کے دوران ہم نے انہیں کہا کہ حملہ آورخود بھی پریڈ کے دوران ہلاک ہوجائیں گے اور کارروائی کی منصوبہ بندی کا راز بھی افشاء نہیں ہوگا جس کے بعد عبود الزمرنے بھی انور سادات کو قتل کرنے کی حمایت کی تھی۔

اسامہ حافظ کا کہنا ہے کہ جماعت میں انور سادات کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کرنے تجویز پر اختلافات کے ساتھ ساتھ اس اقدام کے جوازپرمبنی باضابطہ فتویٰ نہ ہونا بھی ایک مشکل تھی۔ اگرچہ اس حوالے سے الشیخ عمر عبدالرحمان کا ایک بیان موجود تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اللہ کی اطاعت میں فیصلے نہ کرنے والے حکمران کا قتل جائز ہے مگر ایسی کسی کارروائی کے لیےواضح فتوے کی ضرورت تھی۔

اسامہ حافظ کے مطابق انور سادات کے قتل کے بعد الشیخ عمر عبدالرحمان کو حراست میں لیا گیا۔ جب ایک فوجی حراستی مرکز میں الشیخ عمر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے انور سادات کے قتل کی بات سے اعلان برات کیا اور کہا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی جس سے صدر انور سادات کے قتل کا جواز پیدا ہو۔

انور سادات کے قاتل خالد اسلام بولی کی والدہ کا بھی کہنا ہے کہ اس کے بیٹے نے کسی فتوے کی بناء پر صدر کوقتل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ خالد نے عامہ محمد عبدالسلام فرج سے اس بارے میں فتویٰ مانگا، انہوں نے یہ استفسار الشیخ عبداللہ السماوی اور الشیخ عبدالحمید کشک تک پہنچایا۔ ان دونوں نے کہا کہ انور سادات دین اور روایات سے خارج ہوگیا ہے، اس لیے اس کا قتل جائز ہے۔