.

موصل : مغربی حصے کی واپسی کے لیے فوجی آپریشن کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے اتوار کے روز موصل شہر کے مغربی حصے کو داعش تنظیم سے واپس لینے کے لیے عسکری آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات العبادی کے میڈیا بیورو سے جاری ہونے والے بیان میں بتائی گئی۔

واضح رہے کہ موصل کا مغربی حصہ رقبے کے لحاظ سے مشرقی حصے سے چھوٹا ہے تاہم اس کی آبادی کی کثافت مشرقی حصے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ شدت پسندوں کا پرانا روایتی گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔

وزارت داخلہ اور وفاقی پولیس کی فورسز نومبر 2016 سے موصل کے ہوائی اڈے کے جنوبی اطراف میں موجود ہے۔ یہ علاقہ موصل کے جنوبی حصوں کو دریائے دجلہ کے مغربی کنارے سے ملاتا ہے۔

لاکھوں پمفلٹ

عراقی وزارت دفاع نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ فضائیہ نے موصل شہر کے مغربی حصے پر لاکھوں پفملٹ گرائے ہیں جن میں مقامی آبادی کو خبردار کیا گیا ہے کہ داعش تنظیم کو باہر نکالنے کے لیے آپریشن شروع ہونے کے قریب ہے۔

وزارت دفاع کے بیان میں بتایا گیا کہ " عراقی فضائیہ کے طیاروں نے موصل شہر کے مغربی حصے پر لاکھوں پمفلٹ گرائے ہیں جن میں شہریوں کو عراقی افواج کو خوش آمدید کہنے اور داعش تنظیم کے ارکان کو ہتھیار پھینک کر خود کو حوالے کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں"۔

مغربی حصے پر شدید بم باری

ادھر العربیہ کے نمائندے نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بین الاقوامی اتحادی طیاروں اور عراقی فوج کے توپ خانوں نے ہفتے کی شام سے موصل کے مغربی حصے پر شدید بم باری اور گولہ باری شروع کر دی۔ اس دوران مختلف علاقوں میں داعش کے راکٹ لانچروں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ متعدد محوروں سے عراقی مشترکہ فورسز کے وسیع حملے کے آغاز کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔

بین الاقوامی اتحاد نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے موصل کے مغربی حصے میں واقع طبی کمپلیکس کی عمارت کو تباہ کر دیا جس کے بارے میں شبہہ تھا کہ اس کے اندر داعش کی کمان کا مرکز ہے۔