’اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل میں سعودیہ کا کوئی کردارنہیں‘

دی میستورا متوازی مذاکراتی گروپ کی تشکیل سے باز رہیں: اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی اپوزیشن کی نمائندہ سپریم مذاکراتی کونسل نے واضح کیا ہے کہ 23 فروری کو جنیوا میں متوقع شام سے متعلق چوتھے اجلاس میں شرکت کے لیے مذاکراتی وفد کی تشکیل می سعودی عرب کا کوئی کردار نہیں ہے۔

شامی سپریم ڈائیلاگ کونسل کے ترجمان ریاض نعسمان آغا نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے مذاکراتی وفد کی تشکیل میں سعودی عرب کے کسی بھی کردار کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کےمذاکراتی وفد کی تشکیل میں سعودی عرب نے کسی قسم کی مداخلت نہیں کی اور نہ ہی سعودی عرب کا کوئی عہدیدار ان کے اجلاس میں شریک ہوا۔

ڈاکٹر آغا نے اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفن دی میستورا کے دورہ شام اور وہاں پر شامی اپوزیشن کے دوسرے گروپوں کے وفد کی تشکیل پر خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم مذاکراتی کونسل کے وفد کے علاوہ کوئی اور وفد تشکیل دیا گیا تو مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے امن مندوب شام روانہ ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شامی اپوزیشن دھڑے مل کر جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے اپنے نمائندہ وفد کی تشکیل میں ناکام رہے تو وہ اپنی مرضی کا وفد تشکیل دیں گے۔

اپوزیشن کے ترجمان ڈاکٹر نعسمان آغا نے کہا کہ دی میستورا جانتے ہیں کہ وہ اسد رجیم کی طرف سےمن پسند افراد پر مشتمل وفد تشکیل دے سکتے ہیں مگر اپوزیشن کی جانب سے ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کی دی میستورا شامی اپوزیشن کے وفد میں کسی شخص کو شامل کرنے یا کسی کونکالنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

شامی اپوزیشن کے ایک گروپ ’ماسکو فورم‘ نے تئیس فروری کو متوقع جنیوا مذاکرات میں شرکت کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔

’RT‘ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ’عوام کی مرضی‘ کے سیکرٹری جنرل اور اور ماسکو فورم کے چیئرمین قدری جمیل نے الزام عاید کیا کہ دی میستورا شام کے حوالے سے منظور کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ قدری جمیل نے ریاض میں ہونے والے شامی اپوزیشن کے اجلاس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سپریم مذاکراتی کونسل بھی طے شدے فیصلوں سے ماوراء اقدامات کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں