عراق : موصل کے مغرب میں سات دیہات داعش سے آزاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں موصل شہر کے مغربی حصے کو داعش تنظیم سے آزاد کرانے کے لیے شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے پہلے ہی روز سرکاری فورسز نے نمایاں پیش قدمی کی۔ العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں کی معاونت سے حملہ کر کے سات دیہات آزاد کرا لیے گئے۔ عراقی فورسز موصل کے ہوائی اڈے سے 5 کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔ ادھر داعش تنظیم نے جوابی کارروائی میں خود کش حملوں پر اکتفا کیا۔

عراقی حکومت نے مغربی حصے کی آزادی کو موصل آپریشن کا مشکل ترین مرحلہ قرار دیا ہے۔ نینویٰ صوبے کے گورنر نے باور کرایا کہ عراقی فورسز کے حملوں کے سامنے داعش تنظیم کمزور پڑنا شروع ہو گئی ہے تاہم گورنر مغربی موصل میں شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے اندیشے کا اظہار کیا۔

مغربی موصل میں عراقی افواج اور اس کی معاون فورسز کو مشکل معرکے کا سامنا ہے۔ اس سے قبل مشرقی موصل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عسکری آپریشن کو تقریبا ایک ماہ کے لیے روک دیا گیا تھا۔

مبصرین کے مطابق مغربی موصل کے معرکے کے دوران مختلف چیلنج درپیش ہیں۔ ان میں سڑکوں اور تنگ راستوں پر ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت اہم ترین ہے۔ اس کے علاوہ داعش تنظیم کی جانب سے سرنگوں کا نیٹ ورک بھی ہے جس کو روپوشی اور لڑائی کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی افواج کے کمانڈر اسٹیفن ٹاؤنسینڈ کا کہنا ہے کہ موصل کا معرکہ دنیا کی کسی بھی فوج کے لیے مشکل معرکہ ہوگا۔

عراق میں انسانی امور کے لیے اقوام متحدہ کی کوآرڈی نیٹر لیز گرینڈی نے بتایا ہے کہ عسکری کارروائی کے نتیجے میں تقریبا 4 لاکھ شہریوں کی نقل مکانی کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں