ما بعد داعش موصل کےلیے الصدر کا 29 نکاتی منشور

قومی اتحاد کے فروغ، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شیعہ مذہبی رہ نما مقتدیٰ الصدر نے شمالی شہر موصل کو داعش سے چھڑانے کے آپریشن کے تناظر میں 29 نکاتی ایک نیا منشور پیش کیا ہے جس میں مغربی اور مشرقی موصل کی داعش سے آزادی کے بعد حکومت کو اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقتدیٰ الصدر کی طرف سے جاری کردہ اس نئے منشور میں موصل میں تمام عسکری گروپوں کے مراکز بند کرنے اور موصل کو فوج کے حوالے کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے تمام عراقی طبقات سے بات چیت پر زور دینے کے ساتھ پڑوسی ملکوں میں عدم مداخلت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے موصل کو داعش سے چھڑانے کے بعد اس پر داعش کے قبضے اور2014 میں سبائیکر کے مقام پر فضائی اڈے سے سیکڑوں طلباء کے داعش کے وحشیانہ حملے میں قتل کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے جنگ کے نتیجے میں متاثرہونے والے شہریوں تک فوری اور امداد پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام قبائل اور دیگر سرکردہ قومی شخصیات اور طبقات کے ساتھ جامع مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے۔

مقتدیٰ الصدر نے اپنے انتیس نکالتی مطالبات میں عراق کی سرحدوں پر فوج کی تعداد میں اضافہ کرکے سرحدوں کو محفوظ بنانے پر زور دیا۔ الصدر نے عراقی عدلیہ پر زور دیا ہے کہ وہ داعش کے ساتھ تعاون کرنے والوں اور دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف بھی تحقیقات کرائیں۔ انہوں نے عراق میں اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے اقلیتوں کی سپریم کونسل تشکیل دینے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں