کویت جنگ میں ٹانگ کھو دینے والے سعودی کا بیٹا جازان میں شہید

دین و وطن پر بیٹے کی جان کی قربانی باعث فخر ہے:حسن عسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک عمر رسیدہ سابق فوجی جن کی اپنی ایک ٹانگ کویت جنگ میں ضائع ہو گئی تھی کا ایک جواں سال بیٹا کچھ عرصہ پیشتر یمن کی سرحد کے قریب جازان کے علاقے میں یمنی باغیوں کے حملے میں جام شہادت نوش کرگیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 26 سالہ ھادی حسن عسیری شہید کے والد حسن عسیری کی ایک تصویر سامنے آئی ہے، جس میں وہ اپنے شہید بیٹے کی دیوار پرلگی تصویر کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کی دین و وطن پر اپنی جان قربان کرنے پر دکھی بلکہ خوش ہیں۔

شہید نوجوان کے ایک ٹانگ سے معذور والد حسن عسیری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوسری خلیج جنگ کے دوران کویت کی آزادی کے 26 سال پیشتر انہوں نے اس جنگ میں حصہ لیا۔ کویت کی آزادی کے بعد ہم سعودی سفارت خانے کی طرف سعودی عرب کا پرچم لہرانے کے لیے جا رہے تھے۔ ہم پانچ ساتھیوں نے جب سفارت خانے کے صحن میں قومی پرچم لہرایا تو اچانک وہاں پر نصب کی گئی ایک بارودی سرنگ کا زور دار دھماکہ ہوا۔ یہ بارودی سرنگ دشمن کی جانب سے وہاں نصب کی گئی تھی۔ اس دھماکے میں میرا ایک ساتھی شہید ہوگیا اور میری ٹانگ کٹ گئی۔

حسن عسیری نے بتایا کہ سنہ 1411ھ میں کس طرح انہوں نے خلیجی ریاست کویت کو دشمن کے چنگل سے آزاد کرایا۔ انہوں نے بتایا کی معذوری کے نتیجے میں خود تو فوج سے ریٹائر ہوگیا مگر میں نے اپنے ایک بیٹے ابراہیم کو فوج میں بھرتی کرا دیا تاکہ وہ دفاع دین وطن کے لیے اپنی خدمات فراہم کرسکے۔

انہوں نے بتایا کہ بیٹا جازان میں میدان جنگ میں لڑتا ہوا گذشتہ ماہ صیام میں شہید ہوا۔ مجھے بیٹے کی شہادت پر کوئی دکھ نہیں بلکہ خوشی اور فخر ہے۔ ملک وقوم کے لیے یہ قربانی کوئی بہت بڑی قربانی نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں