.

آپ مسجدِ اقصی کی زیارت سے محروم ہیں تو ... ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قبلہ اوّل یعنی مسجد اقصی کی زیارت کا اشتیاق رکھنے والے مسلمانوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ "#روح_القدس" کے نام سے جلد ہی ایک نیا منصوبہ متعارف کرایا جانے والا ہے۔ منصوبے میں ایک ویب سائٹ اور مختلف ایپلی کیشن شامل ہیں جن کے ذریعے ورچوئل ٹکنالوجی "360" کا استعمال کرتے ہوئے #مسجد_اقصی کے احاطے میں 130 آثاریاتی مقامات کا دورہ کیا جا سکے گا۔

منصوبے کی خالق ڈاکٹر منال دندیس نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے دل قبلہ اوّل یعنی کہ تیسرے حرم کے ساتھ متعلق ہیں تاہم سیاسی پیچیدگیوں اور اسرائیلی قبضے کے سبب ان مسلمانوں کی میں اکثریت مسجد اقصی کی زیارت سے محروم ہے۔ میں نے اس منصوبے کے لیے پورے ایک سال تک کام کیا جو میرے لیے ایک خواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ میری آرزو ہے کہ اس طرح دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کا خواب پورا ہو سکے کہ وہ مسجد اقصی کا دورہ کریں خواہ وہ ورچوئل نوعیت کا ہو"۔

مسجد اقصی سے متعلق ویب سائٹ "روح القدس" دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی ویب سائٹ ہو گی۔ اس میں ورچوئل ریئلٹی ٹکنالوجی کے ذریعے پینوراما "360" تصاویر اور "3600" وڈیو شامل ہے۔ یہ سفر مسجد اقصی کے ایک دروازے سے شروع ہو کر گنبد صخرہ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ منسلک نقشے کے مطابق سفر میں 144 ایکڑ پر پھیلے آثاریاتی اہمیت کے حامل 130 مقامات کو ہر زاویے سے دیکھا جا سکے گا۔ اس دوران سیاحتی سفر کے ایک رہ نما کی معاونت بھی حاصل ہو گی جو مستند علمی ذرائع کے حوالے سے معلومات کی روشنی میں ان مقامات کا تاریخی پس منظر پیش کرگے گا۔ یہ معلومات تین زبانوں میں دستیاب ہوں گی ان میں عربی ، انگریزی اور فرانسیسی زبان شامل ہے۔ ایپلی کیشن میں ایک تاریخی البم بھی ہوگا جو 360 درجے کی ٹکنالوجی کے ساتھ 250 سے زیادہ پینوراما تصاویر پر مشتمل ہو گا۔ اس کے علاوہ مسجد اقصی کی خوب صورت ترین فوٹو گرافک تصاویر بھی ایک بڑی تعداد میں دستیاب ہوں گی۔

ڈاکٹر منال دندیس نے واضح کیا ہے کہ " اس منصوبے کا مقصد محض یہ نہیں کہ مسجد اقصی پر عائد محاصرے کو ختم کیا جائے اور لوگوں کو اس کے اندر فرضی طور پر گھومنے کا موقع فراہم کیا جائے بلکہ اس کاوش میں مسجد اقصی کے اندر کا چپّہ چپّہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس طرح یہ ایک تصویری مرجع اور محققین کے واسطے معلومات کا منبع ہو گا اس لیے کہ ویب سائٹ میں فراہم کی جانے والی تمام تر معلومات علمی طور پر مستند اور توثیق شدہ ہو گی۔