.

ہاتھ پاؤں سے معذور مصری بچہ بوتلوں سے مدد لینے پر مجبور

زیاد محمد کے علاج پر 30 لاکھ مصری پونڈ کی لاگت پر والدین پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک گیارہ سالہ بچہ پیدائشی طور پر دونوں بازوں اور ٹانگوں سے محروم ہونے کے باعث حقیقی معنوں میں ایک المیے سے دوچار ہے، مگر اس نے زندگی جینے کے لیے اپنی معذوری کو رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اس نے یہ مشکل چیلنج بھی قبول کرتے ہوئے ایک ایسا حل نکالا ہے جس کی مدد سے وہ نہ صرف خود کھانا کھا سکتا ہے بلکہ وہ لکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گیارہ سالہ زیاد محمد احمد محمد مشرقی گورنری کے بنی صدر قصبے کا رہائشی ہے۔ وہ پیدائشی دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے بغیر پیدا ہوا۔ مگر اس معذوری کے علی الرغم وہ کسی کی معاونت کے بغیر خود سے کھا پی سکتا ہے۔ معذور بچے کے والد نے اس کے لیے ایک ایسا حل نکالا ہے۔ اس نے پلاسٹک کی خالی بوتلوں کو اس کے کندھوں کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کی مدد سے بچہ چمچ کے ذریعے کھانا کھا سکتا ہے۔

معذور بچے کے والد محمد احمد نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ اس کے تین بیٹے ہیں۔ بڑے بیٹے کی عمر چودہ سال، دوسرے کی گیارہ سال اور تیسرے کی پانچ سال ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیاد کی پیدائش پر وہ حیران وپریشان تھے، کیونکہ بچے کے ٹانگیں تھیں اور نہ بازو۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کو پوری زندگی اسی طرح معذوری کے عالم میں گذارنا ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ماہرین صحت کے مطابق بچے میں معذوری کی وجہ ان کی قریبی رشتہ دار خاتون سے شادی ہے، مگر انہوں نے بتایا کہ اس نے تو اپنی قریبی عزیزہ سے شادی نہیں کی۔ زیاد کے والد کا کہنا ہے کہ وہ معذور بچے کو لے کر شہر شہر پھرے اور کوئی اسپتال نہیں چھوڑا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ معذور بچے کا علاج صرف امریکا، جرمنی، آسٹریلیا اور فرانس جیسے چار ملکوں میں ممکن ہے اور اس علاج کے لیے کم سے کم تیس لاکھ مصری پونڈ جمع خرچ ہوں گے۔

بچے کے والد نے کہا کہ وہ ایک عام مزدو آدمی ہے اور دیہاڑی لگا کر بہ مشکل بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ اس کے لیے معذور بچے کے علاج کے لیے مالی وسائل نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں محمد احمد نے بتایا کہ شروع شروع میں وہ بیٹے کو خود ہاتھ سے کھانا کھلاتا اور لکھنے میں اس کی مدد کرتا رہا مگر وہ معمول کے مطابق یہ سلسلہ جاری نہ رکھ سکا۔ بچے کی ماں گھر کے دوسرے کام کاج میں الجھی رہتی اور بچہ بھوکا رہتا۔ اس پر اس نے بچے کی معذوری کا ایک عارضی حل نکالا اور بوتلوں کی مدد سے اس کے مصنوعی بازو تیار کیے۔ مصنوعی ہاتھوں کی مدد سےنہ صرف وہ کھا پی سکتا ہے بلکہ لکھ پڑھ بھی سکتا ہے۔

مصر میں خطرناک جسمانی عارضے سے دوچار بچے کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں مصر ہی کی ایک پانچ سو کلو وزنی لڑکی کو وہاں پر علاج نہ ہونے کے باعث بھارت منتقل کیا گیا ہے۔