.

اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے گھر منہدم کیے جانے میں تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیت المقدس میں قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کی صبح قابض اسرائیلی فوج نے شہر کے ایک علاقے بیت حنینا میں لوئی ابو رموز نامی فلسطینی کا گھر گرا دیا۔ اس طرح رواں سال کے آغاز سے اب تک بیت المقدس میں منہدم کیے جانے والے گھروں کی مجموعی تعداد 42 ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کے حکومت سنبھالنے کے بعد سے انہدام کی کارروائیوں میں غیر مسبوق تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

لوئی کے چچا محمد ابو موز نے تقریبا روتے ہوئے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ اس کے بھتیجے نے اس گھر کو بنانے کے لیے اپنے پاس موجود سارا سونا فروخت کر دیا تھا۔ وہ اپنے بچوں کے لیے روزی کمانے کے واسطے صبح صادق کے وقت گھر سے نکل جاتا ہے۔

ادھر خود لوئی نے بتایا کہ اس کا یہ گھر 15 سال سے قائم تھا اور وہ اب تک اس پر جرمانے کی مد میں 20 ہزار ڈالر سے بھی زیادہ کے چالان کی ادائیگی کر چکا ہے۔ قابض فوج نے صبح سویرے گھر میں گھس کر تمام اہل خانہ کو باہر نکال دیا اور کسی کو کوئی چیز بھی ساتھ لینے کی اجازت نہیں دی۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی ادارے "عیر عمیم" نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو باور کرایا کہ " نئی امریکی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انہدام کی کارروائیوں میں غیر مسبوق نوعیت کی تیزی آ گئی ہے۔ تاہم یہ واحد سبب نہیں ہے.. پہلی وجہ اسرائیل میں موجودہ دائیں بازو کی حکومت ہے جو فلسطینیوں کو 2015 میں ہونے والی کارروائیوں پر سبق سکھانا چاہتی ہے۔ دوسری وجہ اسرائیل میں دائیں بازو کے گروپوں کا دباؤ ہے۔ یقینا نئی امریکی انتظامیہ نے اس پالیسی پر عمل درامد کو قوت بخشی ہے"۔

اس سلسلے میں مذکورہ ادارے کے محقق افیف تتارسکی کا کہنا ہے کہ " حالیہ پالیسیوں نے بیت المقدس کے فلسطینیوں کے سامنے دو ہی اختیارات چھوڑے ہیں.. یا تو وہ ہجرت کر جائیں اور یا پھر بنا اجازت گھر بنا کر اس پر جرمانوں کی ادائیگی کرتے رہیں جب کہ گھر کے گرائے جانے کا امکان تلوار بن کر سروں پر لٹکتا رہے گا"۔