.

جنیوا :شامی اپوزیشن کا براہ راست مذاکرات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے بدھ کے روز جنیوا میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ "براہ راست مذاکرات" چاہتی ہے۔ ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے ترجمان سالم المسلط نے کہا کہ " ہم یہاں مذاکرات کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہم براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا آغاز عبوری حکمراں کمیٹی پر بحث کے ساتھ ہو"۔ المسلط کے مطابق شامی اپوزیشن گذشتہ سال اپریل میں ہونے والی بات چیت کے آخری دور میں بھی براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کر چکی ہے۔

شام کے بحران کے حوالے سے جنیوا بات چیت کا چوتھا دور جمعرات کے روز سے شروع ہوا ہے۔ مذاکرات کے موقع پر فضا زیادہ پُرامید نہیں ہے بالخصوص شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی میستورا کے بیان کے بعد جنہوں نے بدھ کے روز کہا کہ انھیں کسی غیر معمولی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اس سے قبل فائربندی سے متعلق ٹیم کے اجلاس کے بعد کہہ چکے ہیں کہ " میں کسی غیر معمولی نتائج کی توقع نہیں رکھتا ہوں"۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار ضرور کیا کہ بات چیت کے اس دور کے نتیجے میں چھے برسوں سے جاری تنازع کے سیاسی حل کے لیے مذاکرات میں "زورِ حرکت" پیدا ہوگا۔

ڈی میستورا کے مطابق " روس تمام فریقوں کو آگاہ کر چکا ہے کہ اس نے شامی حکومت سے سرکاری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران فضائی حملے نہ کیے جائیں"۔