.

دنیا کے طویل ترین سیاسی قیدی کی سابقہ سزائے قید بحال

صہیونی ریاست کی انتقامی پالیسیوں کا تسلسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے گذشتہ روز صادر کردہ فیصلے میں طویل عرصے تک اسرائیلی جیل میں بہ طور سیاسی قید سزا کاٹنے والے فلسطینی رہ نما نائل البرغوثی کو ماضی میں دی گئی سزا بحال کردی۔ جس کے بعد انہیں دوبارہ عمر قید اور اٹھارہ سال اضافی قید کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالت نے 33 سال جیل میں گذارنے والے نائل البرغوثی کو عمر قید اور 18 سال اضافی قید کی سزا بحال کردی ہے خیال رہے کہ نائل البرغوثی کو اکتبور 2011ء میں اسرائیل اور اسلامی تحریک مزاحمت’حماس‘ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے نتیجے میں رہا کیا گیا تھا، مگر انہیں سنہ 2014ء میں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔

گینز بک کے مطابق نائل البرغوثی نے پوری دنیا میں طویل ترین عرصہ ایک سیاسی قیدی کے طور پر جیل میں گذار کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

اسیر فلسطینی رہ نما کی اہلیہ ایمان نافع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئےکہا کہ اسرائیلی عدالت کا فیصلہ محض سیاسی فیصلہ ہے۔ میرے شوہر کو سابقہ سزا کی بحالی پر گہرا صدمہ پہنچا ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ نائل البرغوثی نے 33 سال صہیونی جیلوں میں ایک بے گناہ سیاسی قیدی کے طور پر قید کاٹی۔ انہیں قیدیوں کے معاہدے کے تحت رہا کیا گیا مگر صہیونی حکام نے اس معاہدے کی پاسداری کے بجائے اس کی مخالفت کرتے ہوئے نائل البرغوثی کو دوبارہ حراست میں لے کران کی سابقہ سازا بحال کردی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ان کے شوہر کی سیاسی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کررہا ہے۔

خیال رہے کہ نائل البرغوثی ک اسرائیل نے سنہ 1978ء میں یہودی آبادکاروں کے قتل کے سہولت کار کے الزام میں حراست میں لیا۔ اسی الزام میں انہیں تاحیات عمر قید اور 18 سال اضافی قید کی سزا سنائی۔ سنہ 2011ء میں انہیں رہا کیا گیا مگر کچھ عرصہ بعد انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔ دوبارہ گرفتاری کے بعد ان کے خلاف پھر سے مقدمہ چلایا گیا اور مقدمہ کی کارروائی مکمل ہونے تک انہیں 30 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ گذشتہ روز اسرائیل کی فوجی عدالت نے ان کی سابقہ قید کی سزا بحال کرتے ہوئے انہیں دوبارہ عمر قید اور اٹھارہ سال کے لیے پابند سلاسل کردیا۔