.

شام امن مذاکرات میں کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہیں: اقوام متحدہ ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ثالث کار اسٹافن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ انھیں جمعرات سے جنیوا میں آغاز ہونے والے شام امن مذاکرات میں کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہیں ہے بلکہ یہ شامی تنازعے کے حل کی غرض سے ایک سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے سلسلہ وار بات چیت کا آغاز ہوں گے۔

ڈی مستورا نے بدھ کے روز جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں کوئی بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں ہیں‘‘۔البتہ انھوں نے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ ’’ان مذاکرات سے ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا اور کوئی بھی فریق دوسرے فریق کو اشتعال دلا کر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ میرے خیال میں یہ ایک مفید موقع ہوگا اور ہم ایک سنجیدہ کوشش کریں گے‘‘۔

جنیوا میں ان مذاکرات پر سیاست پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور شامی تنازعے کے سیاسی حل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں روس ،ترکی اور ایران کی میزبانی میں مزید مذاکرات ہوں گے۔وہاں جنگ بندی کو پائیدار بنانے اور قیدیوں سمیت متعلقہ انسانی امور پر بات چیت کی جائےگی۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے جنیوا مذاکرات کی تنظیم وترکیب کے بارے میں کوئی بات کرنے سے انکار کیا ہے۔البتہ ان کے بہ قول ان کا دوطرفہ ملاقاتوں سے آغاز ہوگا لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ مذاکرات کے اس دور سے ان کے کیا مقاصد ہیں۔