شام امن مذاکرات میں کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہیں: اقوام متحدہ ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے ثالث کار اسٹافن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ انھیں جمعرات سے جنیوا میں آغاز ہونے والے شام امن مذاکرات میں کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہیں ہے بلکہ یہ شامی تنازعے کے حل کی غرض سے ایک سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے سلسلہ وار بات چیت کا آغاز ہوں گے۔

ڈی مستورا نے بدھ کے روز جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں کوئی بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں ہیں‘‘۔البتہ انھوں نے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ ’’ان مذاکرات سے ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا اور کوئی بھی فریق دوسرے فریق کو اشتعال دلا کر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ میرے خیال میں یہ ایک مفید موقع ہوگا اور ہم ایک سنجیدہ کوشش کریں گے‘‘۔

جنیوا میں ان مذاکرات پر سیاست پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور شامی تنازعے کے سیاسی حل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں روس ،ترکی اور ایران کی میزبانی میں مزید مذاکرات ہوں گے۔وہاں جنگ بندی کو پائیدار بنانے اور قیدیوں سمیت متعلقہ انسانی امور پر بات چیت کی جائےگی۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے جنیوا مذاکرات کی تنظیم وترکیب کے بارے میں کوئی بات کرنے سے انکار کیا ہے۔البتہ ان کے بہ قول ان کا دوطرفہ ملاقاتوں سے آغاز ہوگا لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ مذاکرات کے اس دور سے ان کے کیا مقاصد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں