.

عراق: داعشی بار بار اپنا لباس اورحلیہ کیوں بدلتے ہیں؟

موصل میں داعشی جنگجوؤں کی تعداد اندازوں سے کم، شدت پسند فرار ہونے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے نینویٰ کے بائیں کنارے پر داعش کو پے درپے شکستوں کے بعد اب اس کے دائیں کنارے پر بھی شکست فاش کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق داعش کو تازہ لڑائی میں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ داعشی جنگجو یکے بعد دیگر اپنے زیرتسلط علاقوں سے ہاتھ دھوتے جا رہے ہیں۔ مغربی موصل کے شہروں اور دیہات کا داعش کے قبضے سے تیزی سے نکلتے جانا تنظیم کے لیے شدید مالی، مادی، معنوی اور افراد قوت کی قلت کا سبب بن رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش کی تیزی کے ساتھ شکست خوردگی پر کئی طرح کےسوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیاکیا واقعی ان علاقوں پر داعش ہی کا قبضہ تھا، کیونکہ عراقی فوج کی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ داعش تیزی کے ساتھ غائب ہوتے جا رہے ہیں۔

عراق اور دوسرے ممالک کی طرف سے دعوے کیے جاتے رہے ہیں کہ نینویٰ صوبے میں داعشی جنگجوؤں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور وہ آخر دم تک لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مگر محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات سے لگتا ہے کہ داعش کی افرادی قوت بیان کردہ اعدادو شمار سے بہت کم ثابت ہوئی ہے۔ داعشی نہ صرف تیزی کے ساتھ فرار ہو رہے ہیں بلکہ وہ پراسرار طریقے سے غائب ہو کر عراقی فوج کے لیے ایک نئی پریشانی کا موجب بن رہے ہیں۔

موصل کے بائیں ساحلی کنارے کے مقامی شہریوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے جنگجو تعداد میں بہت تھوڑے ہیں مگر وہ لوگوں پر اپنا رعب جمانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں شہری ان سے خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔

نینویٰ کی الفرقان کالونی کے رہائشی اور یونیورسٹی کے ایک استاد العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعشی جنگجو تعداد میں تھوڑے ہیں۔ وہ لائوڈ اسپیکروں پر اعلانات کرتے ہیں کہ ان کی طاقت کو کچلا نہیں جاسکتا اور دنیا کی کوئی طاقت ان تک نہیں پہنچ سکتی۔ وہ مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے لیے انہیں تسلی دیتے ہیں کہ وہ داعش کا ساتھ دیں، داعش انہیں بچائے گی اور انہیں ذلیل وخوار نہیں ہونے دے گی۔

مگر جیسے ہی عراقی فوج علاقے میں داخل ہوئی تو داعشی جنگجو ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کےسر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔ جب فرار ہونے لگے تو انہوں نے مقامی آبادی کو مرتد قرار دے کر ان کا قتل عام شروع کردیا۔

انہوں نے کہا کہ داعشی جنگجو تعداد میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ وہ ہر دو گھنٹے بعد اپنے کپڑے بدلتے ہیں۔ تاکہ لوگ یہ گمان کریں کہ داعشی جنگجوؤں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مقامی عراقی شہری نے بتایا کہ داعش کی صفوں میں لڑنے والے بیشتر جنگجو غیرملکی ہیں یا دوسرے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ وہ مقامی علاقوں کے زیادہ واقف نہیں۔ ان جنگجوؤں کا گمان ہے کہ وہ بغداد کے بہت قریب ہیں اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ عراق کے بعد تمام مسلمان ممالک میں اپنی حکومت قائم کرکے مملکت روم تک پہنچنے کا خواب دیکھتے ہیں۔

موصل کی الوحدہ کالونی کے رہائشی عراقی فوج کے ایک سابق افسر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش کی جو قوت 2014ء میں اس علاقے پر قبضے کے وقت تھی وہ اب 2017ء میں نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ داعشی جنگجوں کی صف اول کی لیڈر شپ ہلاک یا غائب ہوچکی ہے۔ اس لیے وہ سخت ترین شکست خوردگی اور درماندگی کا شکار ہیں۔ انہیں اب سمجھ ہی نہیں آتا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔