.

یمن میں حوثیوں کے ہاتھوں صعدہ کی تباہی اور قبرستانوں میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغیوں کی ملیشیاؤں نے 2004ء میں اپنی پہلی بغاوت کے وقت سے ہی قبائل بالخصوص صعدہ صوبے کے قبیلوں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔ اس سلسلے میں باغیوں نے دباؤ ڈال کر ان قبیلوں کے افراد کو بھرتی کیا اور انہیں ریاست کے ساتھ ہونے والی اپنی چھ جنگوں جھونکا۔ باغیوں نے صعدہ صوبے کے ضلعے حیدان میں مران کے پہاڑوں کے درمیان روپوشی اختیار کی اور حوثیوں کا سربراہ عبدالملک الحوثی اور بعض دیگر رہ نما ابھی تک ناتواں پوزیشن میں یہاں موجود ہیں۔

یمن میں سیاسی اور سماجی زندگی میں قبائل مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

صعدہ کے قبائل

یمنی ذرائع کے مطابق صعدہ صوبے کا قبائلی نقشہ ہمدان بن زید کے قبائل پر مشتمل ہے۔ صوبے کے قبائل کتاف البقع ، الحشوہ اور الصفراء کے ضلعوں میں تقسیم ہیں۔

ان میں قبائلی شاخوں کا مجموعہ بھی ہے جن میں اہم ترین وائلہ ، العمالسہ ، آل عمار اور آل سالم شامل ہیں جو صعدہ کے مشرق میں بستے ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں خولان بن عامر کے قبائل بھی ہیں جو صعدہ کے سب سے بڑے قبائل شمار ہوتے ہیں۔ یہ 5 ذیلی قبائل میں تقسیم ہیں جن کے نام سحار ، جماعہ ، رازح ، منبه اور خولان ہیں اور یہ دو ضلعوں ساقین اور حیدان میں بستے ہیں۔

حوثیوں نے خولان بن عامر کے بعض علاقوں کو گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی سرگرمیوں کے مرکز بنایا ہوا ہے۔ ضحیان شہر حوثیوں کا روحانی گڑھ ہے۔

2004 میں حوثیوں نے مسلح ملیشیاؤں کا رُوپ دھارتے ہوئے ساقین اور حیدان ضلعوں کو تربیت کا میدان بنایا یہاں تک کہ تحریک کے ارکان مران کے علاقے کی پہاڑی نوعیت اور غاروں کی کثرت کے پیشِ نظر وہاں پناہ لے کر مورچہ بند ہو گئے۔

قبرستانوں کی تعداد میں اضافہ

حوثی باغیوں کے گڑھ صعدہ صوبے کو اس باغی جماعت کی وجہ سے سخت حالات کا سامنا رہا ہے جو صوبے اور اس کے لوگوں کے لیے بہت سی جنگوں اور تباہی کا سبب بنی۔ صعدہ صوبے پر حوثیوں کے قبضے کے بعد سے باغیوں کو حاصل ہونے والی کامیابیاں صوبے میں قبرستانوں کی تعداد میں اضافے تک ہی محدود رہیں۔

صعدہ کو کسی زمانے میں "مدینۃ السلام" یعنی "امن کا شہر" کا خطاب دیا گیا تھا تاہم اس وقت کسی کو توقع بھی نہ تھی کہ یمن کے شمال میں واقع اس صوبے کو باغیوں کی جماعت جنگوں کے میدان میں تبدیل کر ڈالے گی۔

سال 2004 سے 2010 کے درمیان باغی حوثی جماعت کی یمنی فوج کے ساتھ چھ جنگیں ہوئیں۔ ان کے نتیجے میں صعدہ صوبہ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی اور یمنی فوج اور حوثیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس طرح حوثیوں نے پورے صعدہ پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

صوبے کے مرکز میں صعدہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع علاقے دماج میں سلفیوں کے وجود کو قبول نہیں کیا گیا۔ حوثیوں نے علاقے کا محاصرہ کر کے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ بم باری کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں دماج میں بسنے والے ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ درحقیقت اسلحے کے زور پر صوبے پر قبضہ کرنے والی حوثی جماعت کے اس اقدام نے اُس کے فرقہ وارانہ چہرے کو بے نقاب کر دیا تھا۔ بعد ازاں اسی صوبے سے حوثیوں نے اپنی مسلح تحریک کو دیگر صوبوں تک پھیلایا۔