.

ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کا شمالی شہر الباب پر کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے شام کے شمالی شہر الباب پر قریب قریب مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب وہ وہاں داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کررہے ہیں۔

ترک وزیر دفاع نے سرکاری خبررساں ایجنسی انا طولو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ شامی جیش الحر کے جنگجو ترک ٹینکوں ،لڑاکا طیاروں اور خصوصی فورسز کی مدد سے الباب کے وسط میں پہنچ گئے ہیں۔جیش الحر کے جنگجوؤں نے گذشتہ کئی ہفتوں سے الباب کا محاصرہ کررکھا تھا۔

ترکی کی سرحد سے تیس کلومیٹر دور واقع داعش کے مضبوط گڑھ الباب پر قبضے کے بعد شام کے اس علاقے میں ترک فورسز کے اثر ورسوخ میں اضافہ ہوگا اور اس کے حمایت یافتہ شامی باغی جنگجو اب داعش کے خود ساختہ دارالحکومت الرقہ کی جانب پیش قدمی کرسکیں گے۔

شامی عربوں اور ترکمن پر مشتمل جیش الحر کے جنگجو دسمبر سے الباب پر قبضے کے لیے داعش کے ٹھکانوں پر حملے کررہے تھے۔ترکی کے لڑاکا طیارے اور ٹینک بھی ان کی مدد میں داعش کے ٹھکانوں پر زمینی اور فضائی بمباری کررہے تھے۔

اناطولو نے الباب میں موجود اپنے نمائندے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ باغیوں نے شہر کے مرکز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب وہ داعش کے انتہا پسندوں کی شہر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کررہے ہیں۔

الباب میں موجود سلطان مراد بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے ایک باغی جنگجو نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ ’’ ہم گذشتہ روز شہر کے وسط میں پہنچ گئے تھے لیکن ایک خودکش دھماکے کی وجہ سے ہمیں تھوڑا پسپا ہونا پڑا تھا۔آج (جمعرات کو) ہم نے دوبارہ حملہ کیا تھا اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پچاسی ،نوّے فی صد شہر ہمارے کنٹرول میں آچکا ہے‘‘۔

اس جنگجو نے مزید بتایا ہے کہ ’’ انھوں نے تمام الباب میں سرنگیں کھود رکھی تھیں اور شہر کی چپے چپے میں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔وہاں اب صرف خودکش بمبار ہی رہ گئے ہیں‘‘۔ ترک فوج نے اس فوجی کامیابی کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔