.

سلامتی کونسل: یمنی باغیوں پر پابندیوں میں توسیع کی قرار داد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز متفقہ طور پر قرارداد نمبر 2342 کو منظور کر لیا ہے جس میں باور کرایا گیا ہے کہ " یمن میں سیاسی اقتدارکی مکمل طور پر منتقلی پر عمل درامد کی ضرورت ہے۔ منتقلی کا عمل خلیج تعاون کونسل کے منصوبے پر عمل درامد کے طریقہ کار اور کونسل کی سابقہ متعلقہ قرار دادوں کے عین مطابق ہونا چاہیے"۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی مذکورہ قرارداد میں پابندیوں سے متعلق اُس کمیٹی کے مشن میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے جو معزول صدر صالح اور حوثیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی کی رقوم کو منجمد کرنے اور دونوں کو بیرون ملک سفر سے روکنے کی نگرانی کر رہی ہے۔

فیصلے کے تحت یمن سے متعلق پابندیوں کے ماہرین کی خصوصی قانونی ٹیم کی ذمے داریوں میں مارچ 2018 تک توسیع کر دی گئی ہے۔ فیصلے میں ٹیم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جولائی 2017 میں نصف سال کی بریفنگ پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو پیش کرے اور اس کے بعد اپنی حتمی رپورٹ جنوری 2018 تک مکمل کر لے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد میں یمن میں انسانی صورت حال کے بگڑنے اور انسانی امداد کے پہنچانے میں رکاوٹوں کا سلسلہ جاری رہنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں یمن میں بعض علاقوں کے القاعدہ تنظیم کے زیر قبضہ ہونے اور داعش تنظیم سے منسوب دیگر جماعتوں کی موجودگی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

حوثی ، صالح اور موقع پرست

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حوثی اور معزول صالح حکومتی مامونیت کا استعمال کرتے ہوئے موقع پرست کاروباری شخصیات اور جرائم پیشہ عناصر سے پوری طرح فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کی ٹیم نے مطالبہ کیا ہے کہ پابندیوں کے نظام کے تحت آنے والے افراد پر ان پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے جن میں علی عبداللہ صالح ، اس کا بیٹا احمد ، عبدالملک الحوثی اور دیگر لوگ شامل ہیں۔

سلامتی کونسل نے تمام فریقوں ، رکن ممالک ، بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ ماہرین کی ٹیم کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں۔