.

محمد مُرسی نے شیخ عمر عبدالرحمن کی رہائی کی کوشش کیوں کی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر محمد مرسی نے سرکاری طور پر منصب سنبھالنے سے ایک روز قبل یعنی 29 جون 2012 کو تحریر اسکوائر پر اپنے مشہور خطاب میں اس عہد کا اعلان کیا تھا کہ وہ جماعہ اسلامیہ کے سربراہ ڈاکٹر عمر عبدالرحمن کی رہائی کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔ عمر عبدالرحمن گزشتہ ہفے کے روز امریکا میں دوران قید وفات پا گئے۔

شیخ عمر عبدالرحمن کے بیٹے ابراہیم عمر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سابق صدر مرسی نے ایک سرکاری وفد کو بھیجا تھا جس نے اُن سے متوفی شیخ عمر پر عائد کیے جانے والے الزام سے متعلق تمام قانونی دستاویزات طلب کیے۔ ابراہیم کے مطابق انہوں نے تمام مطلوبہ دستاویزات اس وفد کو پیش کر دی تھیں۔

ابراہیم عمر کے مطابق سابق صدر نے انسانی حقوق کی قومی کونسل کی ایک قانونی کمیٹی اور مصری پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مقصد شیخ عمر عبدالرحمن کے معاملے کا جائزہ لینا اور امریکی حکام کے ساتھ رابطے کرنا تھا تاکہ شیخ کی رہائی یا قید کی بقیہ مدت مصر میں پوری کرنے کے لیے ان کی منتقلی کو زیر بحث لایا جائے۔ کمیٹی نے واقعتا ایک مرتبہ امریکا کا سفر کیا اور وہاں شیخ کے وکیل رمزی کلارک اور امریکی حکام سے رابطے کیے۔

ابراہیم عمر نے بتایا کہ کمیٹی نے شیخ کی رہائی ، ان کی بیمار حالت اور عمر رسیدگی کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا۔ بعد ازاں محمد مرسی نے اپنے امریکا کے دورے میں امریکی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ شیخ کی رہائی کے سلسلے میں کمیٹی کے مشن کو آسان بنانے کے لیے مطلوبہ سپورٹ پیش کریں۔

کمیٹی نے اپنا کام اچھے اور مثبت انداز میں جاری رکھا تاہم 30 جون 2013 کو انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد کمیٹی نے اپنا کام روک دیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ معاملہ مکمل طور پر کھٹائی میں پڑ گیا یہاں تک کہ شیخ عمر عبدالرحمن کی زندگی کے دن پورے ہو گئے۔

یہ بات معروف ہے کہ محمد مرسی نے اسلام پسند قیدیوں کی رہائی اور مفرور عناصر کی مصر واپسی کے لیے اپنی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔