.

داعش کے حملے میں اردن کی سرحد کے قریب 15 عراقی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی سرحد کے قریب شدت پسند گروپ داعش کے جنگجوؤں نے گھات لگا کر حملہ کر عراقی بارڈر فورسز کے کم سے کم 15 اہلکاروں کو قتل کردیا۔

عراقی سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق عراق اور اردن میں آمد ورفت کے لیے استعمال ہونے والی طربیبل گذرگاہ کے قریب داعشی جنگجوؤں نے اچانک حملہ کر کے کم سے کم پندرہ عراقی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔

عراق میں داعش اور فوج کے درمیان لڑائی صرف مغربی موصل ہی میں نہیں جاری بلکہ داعشی جنگجو کئی دوسرے شہروں میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں میں سرگرم ہیں۔ اردن کی سرحد سے متصل طربیبل کا علاقہ بھی صوبہ الانبار کا حصہ ہے۔

گذشتہ روز داعش کے ایک گروپ نے گھات لگا کر بارڈر فورسز کے ایک مقامی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں کم سے کم پندرہ فوجی مارے گئے۔

بارڈر فورس کے ایک افسر نے بتایا کہ طریبیل گذرگاہ پر حملے میں داعش نے بارود سے بھری گاڑیوں اور خود کش بمبار استعمال کیے۔

قبل ازیں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ داعش نے بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کی مدد سے بارڈر فورسز کے ہیڈ کوارٹر پر تین بم گرائے ہیں۔ تاہم عراقی فوج نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

داعش کی جانب سے طریبیل کے قریب یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب حال ہی میں اردنی وزیراعظم نے اس گذرگاہ کو دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی آمدو رفت کے لیے کھولنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔