.

عراقی شیعہ ملیشیا ’النجباء‘ کی وادی گولان آزاد کرانے کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں گذشتہ کئی سال سے نہتے شہریوں کے قتل عام میں ملوث عراق کی ایک شیعہ ملیشیا ’حرکۃ النجباء‘ نے شام کے صدر بشار الاسد کے سامنے اسرائیل کے زیرتسلط وادی گولان کو آزاد کرانے کی پیش کش کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’النجاء‘ ملیشیا کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے سربراہ اکرم الکعبی نے صدر بشار الاسد کے سامنے تجویز پیش کی ہے کہ وہ چاہیں تو کئی دہائیوں سے اسرائیل کے زیر قبضہ وادی گولان کے علاقوں کو واپس لیا جاسکتا ہے اور مقصد کے لیے النجباء ملیشیا کے جنگجو تیار ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ شام میں دہشت گردی کی بڑی جنگ میں کامیابی کے بعد وادی گولان کو بھی اسرائیل سے واپس لیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ شام میں دہشت گردی کے خلاف بڑی جنگ سے تنظیم کا اشارہ وہاں پر جاری عوامی انقلاب کی تحریک کو کچلنے کی جانب ہے۔ عراقی شیعہ ملیشیا کا کہنا ہے کہ اس کا مشن ’جہاد‘ کرنا ہے اور وادی گولان کو آزاد کرانا بھی جہاد ہی کا حصہ ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ‘النجباء‘ کی جانب سے ادلب شہر کے کفریہ اور فوعہ کے شہریوں کو پیغام بھیجا گیا ہے جس میں اپوزیشن کے اسلحہ کو ’یزیدی ہتھیار‘ قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ عقاید اور نظریاتی طور پر النجباء ملیشیا ایرانی ولایت فقیہ کے مقرب خیال کی جاتی ہے۔ انہوں نے الفوعہ اور کفریا کی شیعہ برادری کے نام ایک پیغام میں کہا کہ ہم تمہیں رسوا نہیں کریں گے اور نہ حسین کو دوبارہ قتل کرنے کی اجازت دیں گے۔

تحریک النجباء ایران کی معاونت سے شام میں لڑنی والی ان دسیوں شیعہ ملیشیاؤں میں سے ایک ہے جو سنہ 2011ء سے صدر بشار الاسد کے دفاع میں سرگرم ہیں۔ النجباء ملیشیا اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر شام میں اپوزیشن کے حامیوں کے وحشیانہ قتل عام اور جنگی جرائم کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔ شام کے کئی شہروں بالخصوص حلب میں لڑائی کے دوران النجباء ملیشیا کے جنگجوؤں نے اسدی فوج اور دوسری ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر ہزاروں افراد کو زبردستی شہر سے نکال کر ان کی املاک پر قبضہ کیا۔