.

موصل :عراقی فورسز کو سخت مزاحمت کا سامنا ، داعش کے ڈرون حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی خصوصی فورسز کو شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور داعش نے عراقی فوج کے ٹینکوں کو پہلی مرتبہ ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا ہے جبکہ لڑائی کے نتیجے میں مزید سیکڑوں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام ( داعش) کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی اعماق نے ہفتے کے روز ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں ایک ڈرون کو ایک عراقی ٹینک پر بم یا میزائل گراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس فوٹیج کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے لیکن یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ داعش موصل میں اپنے دفاع کے لیے ڈرون ایسے جدید جنگی آلات استعمال کر رہے ہیں۔داعش کے ڈرون نے مبینہ طور پر موصل کے نواح میں ایک نامعلوم مقام پر عراقی فوج کے ایک ٹینک کو حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

دوسری جانب عراق کی خصوصی فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی نے بھی داعش کے نئے جنگی حربوں کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے ایک بیان میں ہے کہ ان کے دستے بڑی سست روی سے آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ داعش کے جنگجو کار بموں ،گھات لگا کر فائرنگ اور مسلح ڈرونز کے ذریعے ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ڈرونز کے حملوں میں ہلاکتیں تو بہت کم ہوئی ہیں لیکن ان کے نتیجے میں بیسیوں اہلکار معمولی زخمی ہوگئے ہیں اور اس کے سبب زمینی کارروائیوں میں پیش قدمی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔

جنرل السعدی کا کہنا ہے کہ عراقی فورسز نے موصل کے جنوب مغربی کنارے میں واقع علاقے اور ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اس وجہ سے توقع ہے کہ اب وہ تیزی سے پیش قدمی کریں گی کیونکہ وہ داعش کے رسد کے راستے کو منقطع کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ان کا شہر کے مشرق میں واقع فورسز سے بھی زمینی رابطہ قائم ہوجائے گا۔

عراقی فورسز کے ایلیٹ دستے جمعے کو موصل کے مغرب میں واقع ایک علاقے میں گذشتہ قریباً پانچ ماہ سے جاری کارروائی کے دوران میں پہلی مرتبہ داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

عراق کی انسداد دہشت گردی سروس کے لیفٹیننٹ جنرل سامی العریضی کا کہنا تھا کہ ان کے دستوں نے موصل کے جنوب مغرب میں واقع ایک فوجی اڈے غزلانی اور ایک گاؤں تل الریان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہ شہر کے رہائشی علاقے المامون میں بھی داخل ہوگئے ہیں۔

عراقی فورسز نے گذشتہ ماہ موصل کے مشرقی حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور انھوں نے گذشتہ اتوار کو دریائے دجلہ کے مغربی کنارے میں واقع شہر کے حصے پر دوبارہ کنٹرول کے لیے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

عراق کی سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی شیعہ ملیشیائیں داعش کے مضبوط گڑھ موصل پر دوبارہ کنٹرول کے لیے اکتوبر 2016ء سے یہ کارروائی کررہی ہیں۔ انھیں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد حاصل ہے۔عراقی فورسز نے اس سال کے آغاز کے بعد سے بڑی تیزی سے پیش قدمی کی ہے۔انھوں نے داعش کے زیر قبضہ بہت سے علاقوں کو چھڑوا لیا ہے اور وہاں عراقی پرچم لہرا دیا ہے۔

   موصل میں لڑائی کے نتیجے میں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔
موصل میں لڑائی کے نتیجے میں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔