.

خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ مقابلہ حلب اور موصل منتقل کیا : ایرانی کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صوبے قُم میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل غلام رضا احمدی نے شام اور عراق میں عسکری مداخلت کے جواز کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ " ایرانی مرشد اعلی اپنی دانش مندی کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان محاذ کو آج حلب ، موصل اور سامراء منتقل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں"۔

ایرانی نیوز ایجنسی "تسنيم" کے مطابق احمدی نے جمعرات کے روز اپنے خطاب میں کہا کہ "خطے میں جاری واقعات کی باگ ڈور امریکی انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے... مشرق وسطی میں ہونے والی پیش رفت کو امریکی چلا رہے ہیں"۔

ایرانی عسکری کمانڈر کا بیان ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے اُس بیان کی تائید کرتا ہے جو انہوں نے رواں برس کے اوائل میں شام میں مارے جانے والے ایرانی اسپیشل فورسز کے 7 اہل کاروں کے خاندانوں کے استقبال کے موقع پر دیا تھا۔ خامنہ ای کے مطابق شام میں بشار کی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے مارے جانے والے ایرانی فوجی اہل کاروں نے اپنی جانیں اس لیے دیں تاکہ ایران کو اپنی سرحدوں کے اندر جنگ نہ لڑنی پڑے۔ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ " اگر ہم شام میں امریکا اور صہیونیت کے فتنہ پرور ایجنٹوں سے نبرد آزما نہ ہوتے تو آج ہم ان سے تہران ، فارس ، خراسان اور اصفہان میں لڑ رہے ہوتے"۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی زمینی افواج کے کمانڈر جنرل محمد پاک پور نے 18 فروری کو ایک بیان میں باور کرایا تھا کہ ایران کی جانب سے زمینی افواج کو "مُشیران" کا نام دے کر "مزاحمت کے محور" ممالک بھیجے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایران نے دو ہفتہ قبل "امام حسین" عکسری کالج کے طلبہ کو شام اور عراق بھیجنے کا اعلان کیا تھا تاکہ یہ طلبہ وہاں موجود پاسداران انقلاب کی فورسز کی صفوں میں شامل ہو کر تربیت حاصل کریں۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک شام اور عراق پاسداران انقلاب کی فورسز کے ساتھ ساتھ ان دونوں ممالک میں ایران کے زیر انتظام شیعہ ملیشیاؤں کے لیے تربیت کا عملی میدان بن چکے ہیں۔