.

مصر : داعش کا نشانہ بننے کے بعد قِبطی خاندان سیناء سے فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صوبے شمالی سیناء کے شہر العریش میں داعش تنظیم کی جانب سے 7 مسیحی افراد کو ذبح کر دیے جانے اور ایسی مزید کارروائیوں کی دھمکی کے بعد درجنوں قِبطی خاندان مصر کے شہر اسماعیلیہ کی جانب فرار ہو گئے ہیں۔

اس سلسلے میں عینی شاہدین نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ جمعے کے روز تقریبا 40 قِبطی خاندان اسماعیلیہ فرار ہوئے جو داعش تنظیم کے ارکان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی کارروائیوں سے تنگ تھے۔ العریش میں موجود قِبطیوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں شہر سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے اور ان کی املاک کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے تاکہ العریش کو داعش تنظیم سے پاک کیے جانے کے بعد وہ دوبارہ شہر لوٹ کر آئیں تو انہیں یہ املاک صحیح حالت میں ملیں۔

اس کے علاوہ قِبطی خاندانوں نے مصری وزارت تعلیم سے مطالبہ کیا کہ ان کے جو بچے العریش میں اسکول اور یونی ورسٹی میں طالب علم تھے انہیں دیگر علاقوں کے تعلیمی اداروں میں منتقل ہونے کی منظوری دی جائے۔

ادھر مصر کے کلیسا نے سیناء میں مسیحیوں کو ذبح کیے جانے کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد قومی وحدت پر کاری ضرب لگانا اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے صفوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔

سیناء میں داعش کے ارکان نے کچھ عرصے کے دوران 7 مصری مسیحیوں کو قتل ، ذبح اور جلانے کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ تنظیم نے کچھ عرصہ قبل ایک وڈیو کے ذریعے قِبطیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ وڈیو میں مصری کلیسا میں دھماکا کرنے والے داعشی کو بھی دکھایا گیا ، اس کارروائی میں 28 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔