.

موصل کے اندر کی کہانیاں.. مونچھوں کے الزام میں سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم نے 2014 کی پہلی شش ماہی کے دوران عراق کے شمالی شہر موصل پر قبضہ کیا تھا جو نینوی صوبے کا صدر مقام بھی ہے۔ تنظیم نے قبضے کے بعد پہلے ہی ہفتے شہر کے باسیوں پر اپنے قوانین لاگو کر دیے۔ اس کے نتیجے میں موصل نے مکمل طور تبدیل ہو کر شدت پسندی ، سخت گیری ، قتل اور دہشت کے گڑھ کی صورت اختیار کر لی۔

داعش کے ارکان نے شہر کے باسیوں کو اپنی عادات اور رواج تبدیل کر ڈالنے کا حکم جاری کیا جس میں لباس ، کھانا پینا ، معاملات ، تعلیم و تدریس سمیت زندگی کے تمام امور شامل تھے۔

موصل میں ہر جانب تشدد ، کوڑے لگنے ، جرمانے ، عزتوں کی پامالی ، لوگوں کی تنظیم میں جبری شمولیت اور بالآخر قتل کا خوف پھیل گیا۔ اس دوران دہشت ناک اور افسوس ناک واقعات رونما ہوئے۔ داعش نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کا احتساب شروع کر دیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ آیا مرد کی مونچھیں لمبی ہیں یا چھوٹی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے قہرمان نامی ایک کُرد یزیدی شخص نے بتایا کہ وہ داعش تنظیم کی قید میں تھا اور اسے کئی روز تک لمبی مونچھیں رکھنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یزیدی مذہبی وجوہات کے سبب اپنی مونچھوں کو کم کرنے کے واسطے ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔ ان کے نزدیک مردوں کے لیے مونچھیں منڈوانا حرام ہے۔

جہاں تک یزیدیوں کی مذہبی شخصیات کا تعلق ہے تو ان کے لیے داڑھی اور مونچھوں کو بڑھانا فرض ہے۔

قہرمان کا کہنا ہے کہ وہ داعش کے ہاتھوں قتل کے خوف سے خود کو اسلام کا حامل ظاہر کرنے پر مجبور ہو گیا اور مسجد آنے جانے لگا جب کہ اسے دین اسلام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔

تاہم قہرمان کے ذہن میں یہ بات ہر گز نہیں تھی کہ داعش تنظیم اس کی مونچھوں کو بنیاد بنا لے گی۔ داعشیوں نے اس سے مونچھیں کٹوانے کا مطالبہ کیا جو اس نے مسترد کر دیا۔

اس پر قہرمان کو گرفتار کر لیا گیا اور اسے جیل میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ آخرکار مونچھیں نہ کٹوانے کے سبب اس قہرمان کی سزائے موت کا فیصلہ جاری کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں قہرمان مونچھیں کٹوانے پر مجبور ہو گیا اور بعد ازاں موصل سے فرار ہو کر عراقی کُردستان پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس دن کے بعد سے قہرمان نے اپنی مونچھوں کو نہیں کٹوایا۔