.

حمص حملہ شامی رجیم نے خود کرایا:اپوزیشن

’حملے کا مقصد جنیوا مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بحران کے خاتمے کے لیے امن بات چیت کی غرض سے جنیوا آئے اپوزیشن کے نمائندوں نے گذشتہ روز حمص میں ملٹری انٹیلی جنس کے صدر دفترپرہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کی سازش حکومت نے خود تیار کی تھی جس کا مقصد جنیوا مذاکرات کو ناکام بنانا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنیوا مذاکرات میں شامل اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کے رکن کرنل فاتح حسون نے کہا کہ حمص حملہ حکومت نے خود کرایا۔ اپوزیشن کے پاس داعش اور سرکاری فوج کے درمیان رابطوں کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

شامی اوپوزیشن کے ایک دوسرے رکن نصر الحریری نے کہا کہ حکومتی وفد مذاکرات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شامی حکومت کا وفد کا قاہرہ اور ماسکو گروپوں سے کم پانچ ارکان پر مشتمل ہے۔ الحریری کا کہنا تھا کہ سرکاری مندوب نے شہری آبادیوں پر اسدی فوج کی بمباری کا تذکرہ نہیں کیا، وہ بشارالاسد کی عوام کے خلاف دہشت گردی کا دفاع کررہے ہیں۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہ نما نے حکومتی مندوب بشار الجعفری کے نام پیغام میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس کی مذمت میں ہمارا موقف واضح اور دو ٹوک ہے۔ ہم القاعدہ، داعش اور شام میں غیرملکی ایجنڈا مسلط کرنے والےہر گروپ کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

اپوزیشن کی طرف سے حمص میں ہونے والے دھمکاکوں پر رد عمل حکومتی مندوب بشار الجعفری کے اس مطالبے کے رد عمل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حمص حملوں کی کھل کر مذمت کریں۔

گذشتہ روز حمص میں ہونے والے حملے اپنی وقت کے اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اقوام متحدہ کی زیرنگرانی جنیوا میں مذاکرات جاری ہیں۔ اگرچہ ان مذاکرات میں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ گذشتہ روز کےواقعات نے فریقین کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کا ایک نیا موقع فراہم کردیا ہے۔ دونوں فریق حمص حملوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔