.

داعش کی بارودی سرنگ نے کرد خاتون صحافی کی جان لے لی

شفاء کردی موصل لڑائی کی کوریج کے دوران ہلاک ہونے والی دوسری صحافی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر موصل میں حکومتی فورسز اور داعش کے عسکریت پسندوں کے درمیان جاری لڑائی میں سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں عراقی کردش چینل 'رووداو' کے شعبہ خبر سے وابستہ خاتون پروڈکشن ڈائریکٹر ہلاک ہو گئیں۔

تفصیلات کے مطابق کردش نیوز چینل نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ 'ان کے چینل کی معروف رپورٹر اور سینئر صحافی شفاء کردی موصل میں چھڑپوں کی کوریج کے دوران ہلاک ہو گئیں ہیں'۔

چینل کا کہنا تھا کہ 'شفاء کردی نے صحافت کے شعبے میں مردوں کے غلبے کے تصورات اور دقیانوسی خیالات کو ختم کیا، ہم ان کی دلیرانہ صحافت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں'۔

چینل کے ایڈیٹر نے کہا کہ ایران کے مہاجر کیمپ میں پیدا ہونے والی رپورٹر موصل کے مغربی علاقے میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ہلاک ہوئیں، ان کا کہنا تھا کہ رپورٹر کے ساتھ کام کرنے والا کیمرہ مین زخمی ہے۔

زخمی کو اربیل منتقل کیا گیا ہے جو عراق میں خود مختار کردوں کے علاقے کا دارالحکومت ہے اور چینل کا ہیڈکواٹر بھی یہاں قائم ہے۔

داعش کے خلاف گذشتہ سال 17 اکتوبر کو بڑی کامیابی حاصل کرنے کے اعلان کے بعد رواں ہفتے جمعہ کو پہلی مرتبہ عراقی فورسز موصل کے مغربی حصے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئیں تھیں۔

شفاء کردی موصل لڑائی کی کوریج کے دوران ہلاک ہونے والی دوسری صحافی ہیں اس سے قبل شہر میں لڑائی کے ابتدائی دنوں میں السمیرا ٹی وی کا عراقی رپورٹر علی ہلاک ہو گیا تھا۔ خیال رہے کہ عراق دنیا میں صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ملک تصور کیا جاتا ہے۔ کردش چینل کا مزید کہنا تھا کہ 'شفاء کردی رووداؤ چینل کی سب سے زیادہ بہادر صحافی تھیں'۔