.

شام: حزب اللہ کے زیرکنٹرول علاقوں میں روسی فوج کی تعیناتی

روس کا حزب اللہ ملیشیا سے ٹھکانے خالی کرانے کے لیے دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لبنان کی سرحد سے متصل علاقوں اور دمشق کے مضافات میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیرکنٹرول علاقوں میں روسی فوج کی تعیناتی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ روسی فوج کی آمد اور سیکیورٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے نتیجے میں حزب اللہ کا ان علاقوں میں کردار ختم ہوجائے گا۔ اس طرح حزب اللہ کی شام سے واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔

چند روز قبل امریکی نائب وزیرخارجہ اولیگ سیرومولٹوف نے اسرائیلی اخبار’یروشلم پوسٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حزب اللہ کی لبنان واپسی کے لیے میدان کھلا ہے۔

اس ضمن میں برسر زمین اہم پیش رفت روسی فوج کا ان علاقوں میں کنٹرول سنھبالنا ہے جہاں اب تک حزب اللہ کی بالادستی رہی ہے۔ ان میں دمشق کے قریب واقع وادی بردی اور پرانی شاہراہ لبنان کے اطراف کے قصبے شامل ہیں۔

روسی فوج نے دمشق کے قریب الھامہ کے مام پر ایک نئی فوجی چیک پوسٹ بھی قائم کی ہے جہاں سے سرغایا قصبے کو بھی کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

روسی فوج کا ایک بریگیڈ چند روز قبل اللاذقیہ شہر سے جنوب مغربی وادی بردی کے النبی ھابیل کیمپ منتقل ہوا تھا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ حزب اللہ ملیشیا نے دوسرے عسکری گروپوں کے ساتھ مل کر القلمون کے قصبوں میں ھجرت کرنے والے شہریوں کی دوبارہ واپسی کے معاہدے کو حتمی شکل دی ہے۔

بعض مقامات پر شام میں کنٹرول روسی فوج کے ہاتھ میں آنے کے باوجود حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو اس وقت تک شام میں موجود رہیں گے جب تک اقتدار پر بشارالاسد کی گرفت مضبوط نہیں ہوجاتی اور یہ ضمانت نہیں مل جاتی کہ بشارالاسد کو بدستور اقتدار پرفائز رہنا ہے۔