.

عراقی پولیس کمانڈوز کا مغربی موصل کے ایک اور علاقے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پولیس کے کمانڈوز نے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف شدید لڑائی کے بعد ایک اور نواحی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

عراق کی وفاقی پولیس کے کمانڈو ڈویژن کے میجر جنرل حیدر المطری نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ ’’ان کے دستے اتوار کی صبح طیران کے علاقے میں داخل ہو گئے ہیں اور وہ اب ان کے مکمل کنٹرول میں ہے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ داعش کے جنگجوؤں نے پولیس کمانڈوز کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے بارود سے بھری کاروں میں دس خودکش بمبار بھیجے تھے لیکن ان میں سے نو کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے قبل کی دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا۔دسواں بمبار دھماکا کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور اس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

المطری نے مزید بتایا ہے کہ ان کی فورسز نے دو جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔ان میں ایک عراقی اور ایک غیرملکی ہے اور وہ روسی زبان میں بات کر رہا ہے۔

عراقی فورسز نے داعش کے ان جنگی حربوں اور مزاحمت کے باوجود مغربی موصل پر قبضے کے لیے اس مہم میں پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ مبینہ طور پر دریائے دجلہ کے مغربی کنارے واقع شہر کے اس حصے کے مرکز سے چند کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔

عراق کی خصوصی فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی نے ہفتے کے روز داعش کے نئے جنگی حربوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے دستے بڑی سست روی سے آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ داعش کے جنگجو کار بموں ،گھات لگا کر فائرنگ اور مسلح ڈرونز کے ذریعے ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ ڈرونز کے حملوں میں ہلاکتیں تو بہت کم ہوئی ہیں لیکن ان کے نتیجے میں بیسیوں اہلکار معمولی زخمی ہوگئے ہیں۔