جانیے.. جدّہ میں "مسجد العتیق" کی تاریخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں واقع "مسجد العتیق" (مسجد الشافعی) شہر کے تاریخی علاقے میں اسلامی طرزِ تعمیر کے گوہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسجد کے ایک جانب سُناروں اور تانبہ تیار کرنے والوں کا بازار ہے جب کہ دوسری جانب کپڑوں کا بازار ہے جو البدو کے تاریخی بازار کے نام سے مشہور ہے۔

مسجد الشافعی 1250ء میں یمن میں ایوبی حکم رانوں کے ایک فرماں روا شاہ المظفر سلیمان بن سعد الدین نے تعمیر کرائی۔ وہ خود شافعی مسلک کا پیروکار تھا اور اسی بنیاد پر مسجد کو الشافعی کا نام دیا گیا۔ بعد ازاں 1533ء میں ایک مسلمان ہندوستانی تاجر خواجہ محمد علی کے ہاتھوں مسجد کی عمارت کی تجدید کی گئی تاہم اس تجدید میں مسجد کا مینار شامل نہ تھا۔

تاریخی کتابوں میں آتا ہے کہ اس مسجد کی تعمیر روایتی مواد سے کی گئی جن میں سمندری مٹی، سمندر سے نکالے گئے پتھر اور لکڑیاں شامل ہے۔ فضا میں رطوبت کے سبب جدہ کے لوگ اسی مواد کو تعمیر میں استعمال کیا کرتے تھے۔ مسجد دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک حصے میں مربع صورت میں مسجد کا صحن ہے جو چار ستونوں پر ٹھہرا ہوا ہے۔ مسجد کا دوسرا حصہ اندرونی جانب ہے۔

اس مسجد کا مینار حجاز کے علاقے میں قدیم ترین شمار ہوتا ہے۔ یہ اپنی تعمیر میں ایوبی طرزِ سے مشابہت رکھتا ہے جو چھٹی صدری ہجری میں ظاہر ہوا تھا۔ مسجد میں ایک پانی کا ٹینک بھی ہے جو بارش کے پانی سے بھر دیا جاتا ہے۔ یہ آج تک مختلف مقاصد کے لیے استعمال میں آتا ہے۔ قبلے کی سمت دیوار میں محراب بنی ہوئی ہے جس پر نقش ونگار اور قرآنی آیات کندہ ہیں۔

جون 2015 میں مسجد کی پھر سے تزئین و آرائش کی گئی۔ اس سے قبل آخری تزئین اور تعمیر کی تجدید 500 سال پہلے ہوئی تھی۔ نئی تزئین کا کام سابق سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ کے قائم کردہ فلاحی ادارے "کِنگ عبداللہ فاؤنڈیشن" کے زیر اہتمام عمل میں آیا۔

مسجد کی جدید تعمیری ترمیم اُن ہی بنیادوں پر کی گئی جن پر مسجد کی تعمیر ہوئی تھی۔ ماہرینِ تعمیرات کے زیر نگرانی کام میں مسجد کی پرانی شکل اور اس کے اسلامی آثار کو برقرار رکھا گیا۔ جدید ترمیم کے نتیجے میں ماحولیاتی عوامل کے سبب چُھپ جانے والے عناصر بھی نمایاں ہو کر سامنے آ گئے جن میں روشن دان اور کھڑکیاں شامل ہیں۔

ترمیمی کارروائیوں میں ستون ، لکڑی کی چھت ، دیواریں اور مینار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محراب اور دیگر مقامات پر نقش و نگار اور کندہ کاری کو بھی حسب ضرورت بہتر کیا گیا۔ مسجد کے فرش کو مناسب طور ٹائلوں کے ساتھ مزیّن کیا گیا۔ مسجد کی جنوبی دیوار کے ساتھ واقع دُکانوں کو ختم کر دیا گیا۔ نئے بیت الخلاء تعمیر کیے جانے اور نکاسی آب کے نظام کو تبدیل کرنے کے علاوہ مسجد کے اندر ایئرکنڈیشننگ کا نیا نظام لگایا گیا۔

یاد رہے کہ مسجد العتیق کو اندرون و بیرون ملک کے سیاحوں کے لیے ایک پُرکشش مقام شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں آنے والوں کا سلسلہ موقوف نہیں ہوتا جن میں بالخصوص معتمرین اور حجاج کرام شامل ہیں۔ یہ لوگ جدہ شہر کے دورے میں اس مسجد کی زیارت کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں