مغربی موصل میں 8 لاکھ افراد فاقہ کشی کا شکار

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مشاہدات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مغربی موصل میں دہشت گرد گروپ دولت اسلامی’داعش‘ کے خلاف عالمی اتحادی فوج کی معاونت سے عراقی فوج کےجاری آپریشن کے دوران شہری آبادی بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مغربی موصل میں جاری جنگ اور اس کے شہری آبادی پر مرتب ہونے والے اثرات کا زمینی حالات کے مطابق تجزیہ کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مشاہدات کے مطابق مغربی موصل کی دائیں ساحلی پٹی اور اس کےاطراف میں آٹھ لاکھ شہری خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ شیر خوار بچوں کو دودھ کی شدید قلت ہے جس کے نتیجے میں شہریوں بالخصوص بچوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فاقہ کشی، پانی اور ادویہ کی عدم دست یابی کے نتیجے میں بچوں اموات کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہو چکا ہے۔

عراق میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے‘آبزرویٹری‘ کے مطابق جنوری میں مغربی موصل کی ساحلی پٹی میں تین سال سے کم عمر کے 25 بچے مناسب خوراک اور علاج کی سہولت نہ ملنے کے باعث لقمہ اجل بنے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی موصل کو داعش سے آزاد کرانے کی لڑائی کےدوران شہر کا ساحلی علاقہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور ساحلی علاقوں تک امدادی سامان اور خوراک کی سپلائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ قریبا آٹھ لاکھ افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں جنہیں مناسب خوراک، پانی اور ادیات میسر نہیں ہیں۔

مشاہدات کے مطابق مغربی موصل میں شہریوں کو خوراک کے بحران نے اس وقت زیادہ شدت اختیار کی جب داعشی دہشت گردوں نے تاجروں کو ساحلی علاقوں تک غذائی سامان لے جانے سے روک دیا۔

ایک مقامی شہری یونس الحمدانی نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتےہوئے بتایا کہ مغربی موصل کے ساحلی محاذ پر لڑائی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو سب سے زیادہ جانی نقصان خوراک، پانی اور ادویہ کی عدم دست یابی سے ہو رہا ہے۔ داعشی جنگجوں نے اس علاقے کا محاصرہ مزید سخت کردیا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں بند ہیں۔ رہی سہی کسر فضائی بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونےوالی تباہی نے نکال دی ہے۔

مغربی موصل سےنقل مکانی کرنے والی ایک خاتون شیماء نے بتایا کہ پیچھے رہ جانے والے شہریوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔ نہ آٹا اور نہ چاول اور نہ کچھ اور۔ غیرمعیاری کھجور کے سوا شہریوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کےنتیجے میں لاکھوں شہریوں کی آبادی والے علاقے میں پانی کے ذخائر تباہ ہوچکے ہیں۔ داعشی جنگجوؤں کی جانب سے پانی خوراک اور ادویات پر پابندیاں عاید کردی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے بھی مغربی موصل میں خوراک کی فراہمی میں رکاوٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس نے عراقی فوج اور داعش کے درمیان جنگ کے باعث امدادی سرگرمیاں بند کردی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں