.

تہران کا نظام سقوط کے قریب ہے : جنرل محسن رضائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سکریٹری جنرل محسن رضائی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدعنوانی اور ملک کی حکم رانی کے بدترین طریقہ کار کے سبب ایرانی نظام اندرونی طور پر تباہی کے دہانی پر پہنچ چکا ہے۔ اس سے قبل دیگر ایرانی ذمے داران بھی بارہا اس امر سے خبردار کر چکے ہیں کہ بدعنوانی اور غبن کی کارروائیاں پھیل جانے ، سرکاری عہدے داروں کے ہاتھوں کروڑوں ڈالر خُرد بُرد کیے جانے ، رشوت ستانی کا بازار گرم ہونے اور ریاستی اداروں کے کمزور ہوجانے کے باعث ملکی نظام اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔

پیر کے روز صوبہ اصفہان کے شہر لنجان میں خطاب کے دوران رضائی نے کہا کہ نظام کے ذمے داران پر لازم ہے کہ وہ جتنی اہمیت خطے میں ایران کے رسوخ کی توسیع پر دے رہے ہیں اتنی ہی توجہ ملک کے اندرونی نظام پر بھی دیں۔

مجلس مصلحت تشخیص نظام کے سکریٹری نے باور کرایا کہ ایران میں صفوی اور قاجاری ریاستیں بھی طاقت کا عروج حاصل کرنے کے بعد زوال پذیرہوئیں۔ رضائی کے مطابق "ایران کے اندر بُری حکم رانی اور بدعنوانی کو ٹائم بم شمار کیا جاتا ہے جس کا مقابلہ نہ کیا گیا تو ہم اندرونی طور پر ڈھے جائیں گے"۔

بدعنوانی کا پھیلاؤ

یاد رہے کہ ایرانی ریاستی اداروں میں بدعنوانی کا پھیلاؤ غیر مسبوق سطح پر پہنچ کر اب نظام کے مستقبل کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ایرانی سیاست داں اور صدارتی انتخابات کے ایک سابق امیدوار احمد توکلی نے گزشتہ اکتوبر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ "ایران میں نظام کا سقوط تختہ اُلٹے جانے ، فوجی حملے یا مخملی انقلاب کے ذریعے نہیں ہوگا بلکہ تیزی سے پھیلتی ہوئی بدعنوانی ہی کے نتیجے میں اس نظام کا سقوط عمل میں آئے گا"۔

سابقہ ایرانی حکومتوں میں کئی وزارتی اور انتظامی منصبوں کو سنبھالنے والے توکلی کے نزدیک نگراں کمیشنوں سمیت اس وقت ریاست کے تمام اداروں میں بدعنوانی شدت کے ساتھ پھیل چکی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بدعنوان ترین ممالک کی فہرست میں ایران کو کُل 175 ممالک میں 136 ویں پوزیشن پر رکھا ہے۔

ماہرین سمجھتے ہیں کہ ایران میں بدعنوانی کی جڑیں نظام کی اعلی ترین شخصیات کے ساتھ مربوط مذہبی اداروں ، جماعتوں اور سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے زیر انتظام گروپوں کے غلبے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ یہ عناصر ایرانی معیشت کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں اور ان پر کسی قسم کی نگرانی نہیں ہے۔

اعلی ترین سطح پر حکام کی بدعنوانی

بدعنوانی سے متعلق انکشافات نے ایران میں اعلی ترین سطح پر حکام کو بھی اُس لپیٹ میں لے لیا۔ یہ پیش رفت بدعنوانی کے بڑے مقدمات میں سزائے موت پانے والے گرفتار ارب پتی بابک زنجانی کے انکشافات کے بعد ہوئی۔ اُس نے 2013 میں صدر روحانی کو اُن کی انتخابی مہم کے لیے مالی رقوم فراہم کی تھیں۔ اس اعتراف کے بعد روحانی کو ایرانی عدلیہ کے سربراہ صادق آملی لاریجانی کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

زنجانی کے مقدمے کا تعلق بدعنوانی کے اس نیٹ ورک سے ہے جس کا انکشاف صدر کے ایک سابق نائب محمد رضا رحیمی نے کیا تھا۔ رحیمی نے ایک فہرست کا ذکر کیا جس میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت کے بعض وزراء اور ذمے داران کے نام تھے۔ یہ افراد ریاست کے خزانے سے تقریبا 70 ارب ڈالر نکال لینے کے اسکینڈل میں ملوث ہیں۔ یہ کارروائی حکومت اور پاسداران انقلاب کی نزدیکی شخصیات کو قرضوں کی شکل میں عمل میں لائی گئی۔

دوسری جانب روحانی پر لاریجانی کی تنقید اُن الزامات کے بعد سامنے آئی جو اصلاح پسند ارکان پارلیمنٹ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ پر عائد کیے تھے۔ مالی بدعنوانی سے متعلق الزامات میں سرفہرست مختلف بینکوں میں 63 ذاتی کھاتوں کا معاملہ تھا۔ ان کھاتوں کے ذریعے اربوں کی رقم کو گردش میں لایا جا رہا تھا۔