.

داعشی خلیفہ کا اپنے حامیوں کے سامنے شکست کا اعتراف

البغدادی کا جنگجوؤں کو پہاڑی علاقوں میں فرار کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے ذرائع ابلاغ نے سیکیورٹی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ شدت پسند گروہ داعش کے سربراہ ’خلیفہ‘ ابو بکر البغدادی نے کل منگل کو اپنے ایک پیغام میں حامی جنگجوؤں کے سامنے تنظیم کی شکست فاش کا اعتراف کیا ہے۔

عراق کی السامریہ نیوز نے نینویٰ گورنری کے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ابو بکر البغدادی نے اپنے حامیوں سے خطاب میں اعتراف کیا ہےکہ حالیہ عرصے کے دوران جاری رہنے والی لڑائی میں داعش کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

البغدادی نے اپنے خطاب میں جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ گرفتاریوں سے بچنے کے لیے پہاڑی علاقوں میں فرار ہوں اور سیکیورٹی فورسز کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نینویٰ گورنری کے شہروں میں جس تیزی کے ساتھ داعش کو شکست اور پسپائی کا سامنا ہے اس کے اعتبار سے البغدادی کی یہ تقریر ان کا الوداعی خطبہ قرار دی جاسکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ داعشی خلیفہ نے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ جب فوج ان کا محاصرہ کرلے تو وہ پکڑے جانے کے بجائے خود کو دھماکوں سے اڑا دینے کو ترجیح دیں۔

ذرائع کے مطابق داعش کی مجلس شوریٰ کے تمام ارکان نینویٰ اور تلعفر سے شام کی طرف بھاگ گئے ہیں۔ البغدادی کے مقربین بھی شام اور عراق کی سرحد پر مسلسل اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ داعشی سربراہ نے تنظیم کا فوج اور مہاجرین کا دفتر بند کرنے اور بیرون ملک سے آئے تمام جنگجوؤں کو اپنی مرضی کے مطابق واپس اپنے ملکوں کو جانے کا بھی اختیار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی کہا ہے کہ اگر وہ محاصرے میں آئیں تو خود کو دھماکوں سے اڑا کر ‘شہید‘ ہوجائیں۔ شہادت کے بعد 72 حوریں ان کا استقبال کریں گی۔