.

روس بشارالاسد پر سیاسی انتقال اقتدار کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے: ناصرالحریری

حزبِ اختلاف کا وفد جنیوا میں شامی رجیم سے براہ راست کوئی مذاکرات نہیں کررہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے جنیوا چہارم کے لیے وفد کے سربراہ ناصر الحریری نے واضح کیا ہے کہ وہ شامی رجیم کے ساتھ براہ راست کوئی مذاکرات نہیں کررہے ہیں۔

انھوں نے بدھ کے روز یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ مسٹر اسٹافن سے یہ سنا ہے کہ روسی دباؤ کے پیش نظر قرارداد 2254 میں اٹھائے گئے ایشوز کے لیے عمومی قبولیت پائی جاتی ہے اور یہ ایک اچھی علامت ہے۔ہم یقینی طور پر سیاسی انتقال اقتدار چاہتے ہیں کیونکہ اس طریقے سے ہی دوسرے امور کو حل کیا جاسکتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ شامی حکومت کا وفد مذاکرات میں دوسرے نکات کو ترجیح دے رہا ہے تاکہ سیاسی امور کو براہ راست طریقے سے طے کرنے سے پہلوتہی کی جا سکے۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اسد رجیم مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے جنگی محاذوں پر تشدد کا سلسلہ جاری رکھے گا۔