.

قاری عبدالباسط عبدالصمد کی نواسی اور قرآن کی تلاوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عالمی شہرت یافتہ قاری شیخ عبدالباسط محمد عبدالصمد کی نواسی سُمیّہ کی پیدائش کے وقت کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے نانا سے قرآن کریم کی خوش الحانی اور اس کے حروف کی بہترین انداز سے ادائیگی ورثے میں پائے گی۔ سمیہ جب قرآن کریم کی آیات کی قرات کرتی ہے تو اس میں نغمگی کا ایک عجیب سا احساس کانوں میں رس گھول دیتا ہے اور انسان کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

شیخ عبدالباسط عبدالصمد کی نواسی سمیہ الدیب کی پیدائش مصر کے شمالی صوبے القلیوبیہ کے شہر بنہا میں ہوئی۔ سُمیہ نے چار برس کی عمر میں قرآنی آیات یاد کرنے کا سفر شروع کیا اور گیارہ برس کی عمر میں قرآن کریم کا حفظ مکمل کر لینے کی سعادت حاصل کی۔

سُمیّہ کا کہنا ہے کہ کتاب اللہ حفظ کرنے میں اس کے والد اور والدہ نے بہت مدد کی۔ وہ ترکی ، متحدہ عرب امارات اور الجزائر میں بین الاقوامی اور عالمی مقابلوں میں قرآن کریم کی قرات کر چکی ہے۔ سمیہ کے مطابق وہ مصری قاری شیخ مصطفی اسماعیل کے حفظِ قرآن کے مرکز سے بہت متاثر ہوئی۔ اسے اپنے نانا عبدالباسط عبدالصمد کی آواز کا جمال اور شیخ کامل یوسف البہتیمی کی قرات بہت زیادہ بھاتی ہے۔ سمیہ نے بتایا کہ اب وہ مختلف انداز اور طریقوں سے قرات کرنے لگی ہے۔

29 اپریل 2015 کو سُمیہ نے اپنے بلاگ دی جانے والی اطلاع سے سب لوگوں کو حیران کر ڈالا۔ سمیہ نے لکھا کہ "علماء سے مردوں کے سامنے قرات کرنے سے متعلق شرعی حکم (خواہ براہ راست ہو یا آڈیو یا وڈیو کے ذریعے) معلوم کرنے پر معلوم ہوا کہ شرعا یہ جائز نہیں ہے اور اس سے فتنے کا اقوی اندیشہ ہوتا ہے۔ لہذا میں نے اللہ کے سامنے توبہ کا فیصلہ کر لیا ہے اور اپنی تمام سابقہ آڈیو اور وڈیو ٹیپس سے براءت کا اعلان کرتی ہوں اور آئندہ کسی جانب سے بھی اس کے نشر کرنے پر اپنی عدم آمادگی کا اعلان کرتی ہوں"۔

سُمیہ نے بتایا کہ اب اُس نے صرف خواتین کی محفلوں میں پورے شرعی اصولوں کے ساتھ قرآن کی تلاوت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔