.

انجیلا میرکل کی صدرالسیسی سے ملاقات، تارکینِ وطن کے مسئلہ پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر انجیلا میرکل مصر اور تیونس کے دوروزہ دورے پر جمعرات کو قاہرہ پہنچی ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی شمالی افریقا سے یورپ منتقلی کو روکنے کے لیے ان دونوں ملکوں سے بات چیت کرنا ہے۔

انجیلا میرکل نے مصری صدر عبدالفتاح سے ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات اور مصر میں جرمنی کی جانب سے سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے تبالہ خیال کیا ہے۔

جرمن چانسلر کے ترجمان نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر السیسی کے ساتھ دوسرے امور کے علاوہ اقتصادی تعاون اور جرمن کمپنیوں کے لیے مصر میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کریں گی۔

وہ صدر السیسی کے بعد مصر کے قبطی آرتھوڈکس چرچ کے پوپ تواضروس الثانی اور جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ احمد الطیب سے ملاقات کرنے والی تھیں۔ وہ جمعے کو تیونس روانہ ہوجائیں گی جہاں وہ صدر باجی قائد السبسی سے ملاقات کریں گی۔

ان کے ہمراہ ایک کاروباری وفد بھی آیا ہے جو دونوں ملکوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے بات چیت کرے گا۔واضح رہے کہ مصر اور تیونس دونوں ہی سخت اقتصادی مسائل سے دوچار ہیں۔ان کے نوجوانوں کے میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے جبکہ حالیہ برسوں کے دوران میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے ان کی سیاحت کی صنعت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

وہ تیونس اور مصر کی قیادت سے ان کے پڑوسی ملک لیبیا کی صورت حال پر بھی بات چیت کریں گی۔لیبیا میں سنہ 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔

انجیلا میرکل کو ستمبر میں آیندہ انتخابات سے قبل پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والوں کی تعداد میں کمی کے لیے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔شام ،عراق اور دوسرے ممالک سے تارکین وطن کی بڑی تعداد لیبیا کے راستے یونان اور اٹلی اور وہاں سے دوسرے یورپی ممالک کا رُخ کررہی ہے۔جرمنی میں سنہ 2015ء کے بعد سے دس لاکھ سے زیادہ تارکین وطن اور مہاجرین پناہ کے لیے منتقل ہو چکے ہیں۔

ان کی حکومت شمالی افریقا کے ممالک پر سرحدوں پر زیادہ کنٹرول کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور اس نے جن پناہ گزینوں کی درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں،ان کی جرمنی سے بے دخلی اور ان کے آبائی ممالک کو واپسی کے لیے کارروائیاں بھی تیز کردی ہیں۔