.

جنیوا اجلاس میں ’دہشتگردی‘ کو ایجنڈے میں شامل کرنے کی تجویز مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری بحران کے حل کے لئے جاری مذاکرات مِں شامل اپوزیشن کی سپریم مذاکراتی کونسل کے چیئرمین اور جنیوا وفد کے سینیر رکن یحیی القضمانی نے کہا ہے کہ انہوں نے مذاکرات کے ایجنڈے میں ’دہشت گردی‘ کےموضوع کو شامل کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے سپریم مذاکراتی کونسل کے چیئرمین قضمانی نے کہا کہ روسی حکام کے ساتھ ان کی ملاقات حوصلہ افزا رہی ہے۔ انہوں نے روسی حکام سے ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی جنیوا میں جاری امن مذاکرات میں دہشت گردی کی اصطلاح کو ایجنڈے میں شامل نہیں ہونے دیں گے۔

جنیوا میں شامی مذاکراتی وفد کے سربراہ نصر الحریری کی موجودگی میں یحییٰ قضمانی نے کہا کہ انہوں نے روسی نائب وزیر خارجہ گینادی غاتیلوف سے جنیوا میں بات چیت کے دوران واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں مزید موضوعات شامل کرتے ہوئے دہشت گردی کے موضوع کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جنیوا میں مذاکرات کے ایجنڈے کا اعلان اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا پہلے ہی کرچکے ہیں جس میں انہوں نے اقتدار کی پرامن منتقلی، دستور کی تیاری اور انتخابات کو ایجنڈے کے اہم ترین موضوعات قرار دیا ہے۔

ادھر شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ نے جنیوا میں موجود سرکاری وفد کے ایک مقرب ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران جنیوا میں ہونے والے مذاکرات زیادہ گہرائی کے ساتھ جاری رہے اور ان کے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد کی اسٹیفن دی میستورا سے ملاقات کے دوران چارمزید اہم نکات کو مذاکرات میں چار اہم موضوعات کو ایجنڈے میں پیش کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی جن میں دہشت گردی سرفہرست موضوع ہوگا۔ اس کےعلاوہ حکومت کی تبدیلی، دستور اور انتخابات بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جب سے جنیوا میں حالیہ مذاکرات شروع ہوئے ہیں شامی حکومت کی طرف سے بار بار یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے موضوع کو بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے امن مندوب نے مذاکرات شروع ہونےسے قبل واضح کردیا تھا کہ بات چیت صرف تین موضوعات پر ہوگی جن میں سیاسی انتقال اقتدار، آئین اور انتخابات شامل ہیں۔