.

روسی بمباری، 1000 شامی بچوں کوموت کی نیند سلا دیا گیا

وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے نصف ٹن وزنی کلسٹر بموں کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں روسی فوج کی جاری بمباری کو 17 ماہ ہوچکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود روسی فوج شام میں بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بمباری کے دوران ہزاروں معصوم شہریوں کو قتل کردیا گیا۔ جن میں ایک ہزار سے زاید بچے بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے’سیرین آبزرویٹری‘ کی طرف سےجاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روس سے شام میں 30 ستمبر 2015ء کو فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ 28 فروری 2017ء تک روسی فوج مسلسل سترہ ماہ سے بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ روسی فوج کی بمباری کے نتیجے میں 11 ہزار 312 عام شہری مارےجا چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جب سے روسی فوج نے شام میں بمباریی کا آغاز کیا ہے تب سے 1175 شامی بچے شہید کیے جا چکے ہیں۔ بمباری کے نتیجے میں 686 خواتین،2977 مرد، داعش کے 3209 جنگجو،دیگر اسلام پسند گروپوں کے 3265 جنگجو مارے گئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ روسی فوج شام میں Thermite نامی مہلک ایلومینیم اور آئرن اکسائیڈ جیسے مادے سے تیار کردہ بم استعمال کرتا رہا ہے۔500 کلو گرام وزنی "RBK-500 ZAB 2.5 SM" یہ بم کلسٹر بموں میں شامل جس کے شیل اطراف میں انسانی جانوں اور ہرزندہ چیز کے لیے نہایت خطرناک قرار دیے جاتے ہیں۔ اس کا شیل لگنے کے بعد محض 180 سکینڈ میں پورا انسانی جسم جل کر بھسم ہوجاتا ہے۔

شام میں روسی فوج کی جانب سے ایسا ہی تھرمائیٹ چھوٹے سائز کا بم (AO 2.5 RTM) بھی بہ کثرت استعمال کیا گیا۔ افراد اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے اس بم کے 50 سے 110 گولے ایک ہی وقت میں پھینکے جاتے۔ یہ گولے اپنے ہدف پر لگنے کے بعد اطراف میں 20 اور 30 میٹر کی جگہ پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتے ہیں۔