.

حزب الله اور حماس کے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس کا اندازہ ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ Herzl Halevi کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور حماس مستقبل قریب میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی عسکری مقابلے کی خواہش مند نظر نہیں آتی ہیں۔ عبرانی زبان کے اخبار "ہآریٹز" کے مطابق ہیلوی نے یہ بات اسرائیلی پارلیمنٹ میں خارجہ امور اور دفاع کی کمیٹی کے اجلاس میں کہی۔

ہیلوی نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ حزب اللہ شام کی جنگ میں اپنے بھاری جانی نقصان کے سبب شکست خوردہ ہو چکی ہے۔ اُس کو اپنی ملیشیاؤں کے لیے نوجوانوں کی بھرتی میں بھی دشواریوں کا سامنا ہے جب کہ اس کے ارکان کی اکثریت 60 برس کی عمر کے قریب پہنچ رہی ہے۔ ہیلوی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ساتھ حزب اللہ کا عسکری مقابلہ شام کی جنگ ختم ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔

ہیلوی نے مغربی کنارے کی صورت حال سے بھی خبردار کیا جہاں فلسطینیوں نے اگر امید کا دامن چھوڑ دیا تو وہ بپھر کر سامنے آ سکتے ہیں۔ ہیلوی کے مطابق اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کسی معاہدے کے طے پانے کی صورت میں بھی اقتصادی ترقی کے لیے اقدامات کیے جانا چاہیں تاکہ سیاسی خلاء سے جنم لینے والی جھنجلاہٹ کو کم کیا جا سکے۔

اسرائیل کے ریاستی محاسب کی رپورٹ کے حوالے سے ہیلوی کا کہنا تھا کہ سُرنگوں کے خطرے کو کم جانے بغیر یہ کہا جاسکتا ہے کہ فی الحال اسرائیل کے لیے خطرے کا کوئی وجود نہیں ہے۔

اسرائیلی ریاست کے محاسب نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ حکومت کی چھوٹی کابینہ نے غزہ میں انسانی صورت حال کو یکسر نظر انداز کیا اور جنگ کو روکنے کے لیے سیاسی امکانات پر غور نہیں کیا۔

ہیلوی کے مطابق حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی کو انتہائی مشکل اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے جس نے بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ہیلوی نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں حماس اور حزب اللہ کا باہمی تعاون دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس چیف ہیلوی کے مطابق روس اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان تعاون سے ایران کو اعتدال کی راہ پر لایا جا سکتا ہے۔ اُس نے واضح کیا کہ اگرچہ شام میں روس کی محنت اہم شمار کی جا رہی ہے تو امریکا بھی اہم ترین شکل میں کام کر رہا ہے مگر اس کی کاوشیں انٹیلی جنس کے میدان میں مخصوص انداز سے جاری ہیں۔

ہیلوی نے دعوی کیا کہ روس حزب اللہ اور ایران کو تزویراتی شراکت دار شمار نہیں کرتا بلکہ وہ انہیں محض اپنے مقاصد کی تکمیل کے آلات سمجھتا ہے۔ روس کا فی الحال شام سے انخلاء کا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ اس نے تو وہاں 50 برسوں کی لیز پر اراضی بھی لے لی ہے۔