.

’شام وعراق میں 12 سے15 ہزار دہشت گرد موجود ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں دہشت گردی کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دونوں عرب ملکوں میں اب بھی پندرہ ہزار کے لگ بھگ دہشت گرد موجود ہیں جنہیں ختم کرنے تک دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل اسٹیفن ٹاؤنسنڈ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کہا کہ شام اور عراق میں اب بھی 12 سے 15 ہزار دہشت گرد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں دہشت گردی کی بڑی تعداد کی موجودگی کا پتا خفیہ اداروں کے ذریعے لگایا گیا ہے۔

قبل ازیں سنہ 2015ء اور 2016ء کے دوران امریکی وزارت دفاع نے شام اور عراق میں دہشت گردوں کی تعداد 20 سے 30 ہزار کے درمیان بتائی تھی۔

جنرل ٹاؤنسنڈ کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں دہشت گردوں کے مرکز پر تباہ کن فضائی حملے جاری ہیں۔ گذشتہ نو ماہ کے دوران جاری حملوں میں شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے سربراہ ابو بکر بغدادی کے بیشتر مقربین ہلاک کیے جا چکے ہیں مگر فضائی حملے ابھی مزید جاری رہیں گے کیونکہ دہشت گردوں کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل ٹاؤنسنڈ نے کاہ کہ داعش کا مورال اچانک ختم ہونے کا امکان نہیں۔ موصل میں داعش کو شکست دینے میں وقت لگ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ عراقی فوج نے مغربی موصل میں داعش کے خلاف دوسرے مرحلے کا آپریشن 19 فروری سےشروع کیا ہے۔ دریائے دجلہ کے مشرقی اور مغربی کناروں پر پھیلے شہر موصل کا مشرقی حصہ 24 جنوری کو داعش سے آزاد کروا لیا تھا۔