.

عراقی فوج کی شدید فائرنگ ، موصل اور تلعفر کے درمیان سڑک بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج کے ایک کمانڈر نے بتایا ہے کہ عراقی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں موصل اور تلعفر کے درمیان سڑک بند ہو گئی ہے اور فوج موصل کے شمال مغرب کی جانب داخلی راستے سے چند کلومیٹر کی دوری پر ہے۔

اُدھر نینوی صوبے کے آپریشنز کمانڈر عبدالامیر یار اللہ کا کہنا ہے کہ مشترکہ عراقی فورسز نے موصل کے مغربی حصے کے اطراف اپنا گھیرا مضبوط کر لیا ہے اور داعش تنظیم اس حصے کے اندر مکمل طور پر محصور ہو چکی ہے۔

اس دوران بین الاقوامی تنظیموں نے موصل شہر میں شہریوں کو نشانہ بنانے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے موصل شہر کے مغربی حصے اور اس کے نواحی دیہات سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہجرت اور نقل مکانی کے امور سے متعلق عراقی وزارت کے مطابق موصل شہر کے مغربی حصے سے تقریبا 14 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جب کہ بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 1.66 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں اکثریت کو سنگین حالات کا سامنا ہے جس میں خوراک کی عدم دستیابی اور داعش کے ہاتھوں اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا جانا شامل ہے۔

دوسری جانب عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے باور کرایا ہے کہ ایک نیا منصوبہ وضع کیا گیا ہے۔ منصوبے میں اس امر کو یقینی بنایا گیا ہے کہ قومی سکیورٹی فورسز موصل کے معرکے سے متعلق سیاسی امور میں ملوث نہ ہوں۔

العبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ عراق میں غیر ملکی زمینی افواج کا کوئی وجود نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراقی افواج کو ملنے والی واحد سپورٹ بین الاقوامی فوجی اتحاد کی جانب سے ہے۔