.

مسلح یہودی غنڈوں نے فلسطینیوں کو پانی کے استعمال سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی علاقوں پر قابض اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ یہودی شرپسندں کو بھی فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی کھلی اجازت ہے۔ اس امر کا اظہار گذشتہ روز مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کے نواحی علاقے النبی الصالح میں دیکھا گیا جہاں دسیوں یہودی شرپسندوں نے مقامی فلسطینی شہریوں کو بندوق کے زور سے پانی کے ذخائر تک پہنچنے اور انہیں استعمال کرنے سے روک دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسلح یہودی غنڈہ گردوں کی طرف سے پانی کے مراکز کی طرف جانے سے روکے جانے پر فلسطینی شہریوں نے احتجاج کیا۔ اس موقع پر فلسطینی شہریوں اور یہودی آباد کاروں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب فلسطینی شہریوں نے النبی الصالح میں فلسطینی قصبے کی حدود میں موجود پانی لینے کی کوشش کی۔ اس پر بندوق بردار یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کو پانی کے چشموں کی طرف جانے سے روک دیا۔

یاد رہے کہ پانی کے ان چشموں پر صہیونی حکومت اور یہودی اشرار نے سنہ 2008ء سے تسلط جما رکھا ہے۔ اس قصبے کی 60 فی صد اراضی پر بھی یہودی آباد کار قابض ہیں جنہوں نے فلسطینی آبادی کا جینا حرام کر رکھا ہے۔

النبی الصالح کے فلسطینی ہر جمعہ کو صہیونی ریاستی دہشت گردی اور یہودیوں کی غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ اسرائیلی فورسز ہربار پرامن فلسطینی مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے انہیں منتشرکرتی ہے۔ گذشتہ روز بھی فلسطینی شہریوں کی ایک احتجاجی ریلی کےشرکاء غصب کیے گئے پانی کے چشموں کی طرف جانے لگے تو یہودی آبادکاروں اور فوج نے ان پر بندوقیں تان لیں اور آگے جانےسے روک دیا۔

ایک مقامی سماجی کارکن باسم تمیمی نے’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج یہودی آبادکاروں کو فلسطینیوں پر تشدد کے لیے کھلی چھٹی دیتی ہے۔ گذشتہ روز بھی اسرائیلی فوج کی موجودگی میں یہودی غنڈہ گردوں نے فلسطینی مظاہرین پر ہوائی فائرنگ کی تھی۔

النبی الصالح قصبے کی فلسطینی آبادی 800 نفوس پرمشتمل ہے۔ یہ علاقہ ‘سیکٹر‘ C‘ کاحصہ ہے جس کا انتظامی اور سیکیورٹی کنٹرول اسرائیلی فوج کے ہاتھ میں ہے۔