.

اقتدار کی سیاسی منتقلی تفصیل کے ساتھ زیر بحث آئی ہے : شامی اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنیوا 4 مذاکرات میں شامی اپوزیشن کے وفد کے سربراہ نصر الحریری کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ بات چیت میں شام میں اقتدار کی سیاسی منتقلی کا موضوع گہری تفصیل کے ساتھ زیر بحث آیا ہے۔

جنیوا میں ایک پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ " میرے پیارے دیس شام میں بشار حکومت نے انقلاب کی تصویر مسخ کرنے کے واسطے سیاہ دہشت گردی کا بازار گرم کیا"۔ الحریری نے باور کرایا کہ " شامی حکومت نواز فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی جانب سے داعش تنظیم جیسے جرائم کا ہی ارتکاب کیا جا رہا ہے.. جب کہ ہم دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جیشِ حُر کے جنجگوؤں پر انحصار کر رہے ہیں"۔

الحریری کے مطابق شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی "اسٹیفن ڈی میستورا نے شامی بحران کے حل کے واسطے 12 شِقوں پر مشتمل بنیادی اصول پیش کیے ہیں جن میں سے بہت سی شِقیں بین الاقوامی قرار دادوں میں موجود بھی ہیں۔

نصر الحریری نے باور کرایا کہ ڈی میستورا کی جانب سے پیش کیا جانے والا دستاویز اس بات پر زور دیتا ہے کہ شام کے عوام ہی جمہوری طریقوں سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

الحریری نے بتایا کہ " ہم نے قرارداد 2254 کے اہم معاملات پر گفتگو کی اور سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ جو موضوع زیر بحث آیا وہ اقتدار کی سیاسی منتقلی ہے اس لیے کہ یہ دیگر اقدامات کے مقابلے میں اولین ترجیح کا حامل ہے"۔

ڈی میستورا کی جانب سے پیش کیے جانے والے دستاویز میں " اصلاحات کرنے ، قانون کی بالا دستی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت کے علاوہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی واپسی کے حق کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے"۔

ترکی کی جانب سے کسی بھی شامی علاقے پر قبضے کی مذمت نہ کیے جانے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے نصر الحریری کا کہنا تھا کہ " پہلے تو ہم روسی اور ایرانی قبضے ، 64 ممالک کے طیاروں اور اسرائیلی طیاروں کی بات کریں اس کے بعد خود مختاری اور سیادت کا نام لیں.. فرات کی ڈھال آپریشن میں اس وقت جو لڑ رہے ہیں وہ شامی جیشِ حُر کے ارکان ہیں۔ ہم داعش تنظیم سے برسر جنگ ہونے کے لیے کسی بھی بین الاقوامی کوشش کا خیر مقدم کرتے ہیں"۔

شامی اپوزیشن کے وفد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ " بشار الاسد کرسی صدارت سے چمٹے رہنے کے واسطے ہر قصبے کو جلا ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ شام میں ہلاکتوں کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دیے گئے عدد کو بھی شامل کر لیا جائے جس کے مطابق بشار کی جیلوں میں 13 ہزار افراد کو پھانسی چڑھایا جا چکا ہے"۔