.

شمالی شام کے منبج شہر میں باغیوں کے درمیان خوفناک لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی شہر منبج میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز[قسد] اور ترکی کی حمایت یافتہ فرات کی ڈھال فورسز کے درمیان خوفناک لڑائی شروع ہوگئی ہے۔

العربیہ چینل کے مطابق کرد جنگجوؤں پر مشتمل ڈیموکریٹک فورسز اور فرات کی ڈھال فورس کے درمیان منبج کے مغربی علاقے جب الحمیر میں تازہ لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے شدید لڑائی کے جلو میں اہم پیش قدمی کی ہے۔خطرہ ہے کہ ترکی کی سرحد کے قریب واقع علاقوں میں دونوں گروپوں میں تصادم مزید خطرناک شکل اختیار کرسکتا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق شمالی شام کے منبج شہر میں جاری تازہ لڑائی کو امریکی فوجی بھی مونیٹر کررہے ہیں۔ امریکی فوج’ہامفی‘ فوجی گاڑیوں میں بیٹھ کر اپنی حلیف ڈیموکریٹک فورس اور ترک فورسز کے درمیان جاری لڑائی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔

خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوج کی علاقے میں موجودگی منبج شہر میں کردوں اورترکی کی حمایت یافتہ فرات کی ڈھال کے درمیان لڑائی روکنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس وقت ایک طرف ترکی کی حمایت یافتہ فرات کی ڈھال فورس اور دوسری طرف امریکی حمایت یافت سیرین ڈیموکریٹک فورسز منبج میں آمنے سامنے ہیں۔

تازہ کشیدگی کی روک تھام کے لیے امریکا اور ترکی کی طرف سے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس وقت جاری لڑائی امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی جگہ سے کوئی 10 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔

خیال رہے کہ منبج پر تازہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی تھی جب سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے روس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت علاقہ شامی فوج کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس علاقے کو شامی فوج کے حوالے کرنے سے قریب ہی دوسرے مقامات پر موجود ترک فوج اور اس کی حامی ملیشیا کی سپلائی روٹ منطقع ہونے کے خطرات پیدا ہوگئےتھے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے منبج کا علاہ شامی فوج کو دیے جانے کے اعلان کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہےکہ ماسکو کی طرف سے انہیں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ اس علاقے سے روسی فوج کی نگرانی میں عالمی امدادی قافلوں کو گذرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔