.

شامی فوج کا خاموشی سے کردوں اور ترکوں کے درمیانی علاقے پر قبضہ

امریکا کے حمایت یافتہ شامی جنگجوؤں نے ترکی سے محاذ آرائی سے گریز کے لیے 10 دیہات خالی کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے حمایت یافتہ شامی جنگجوؤں نے ترکی سے براہ راست محاذ آرائی سے بچنے کے لیے ایک معاہدے کے تحت ملک کے شمال میں واقع متعدد دیہات کا قبضہ اسدی فورسز کے حوالے کردیا ہے۔

امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) میں شامل منبج ملٹری کونسل نے گذشتہ ہفتے ان دیہات کو شامی فوج کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔کونسل کے ترجمان شرفان درویش نے منگل کے روز فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’’ الآ ریمہ قصبے کے مغرب میں واقع بعض دیہات اور چوکیوں کا کنٹرول شامی رجیم کے سرحدی محافظوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔

انھوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام ترکی کے توسیع پسندانہ عزائم اور شامی علاقے پر قبضے کو روک لگانے کے لیے کیا گیا ہے۔اس کاایک مقصد شہریوں کی خونریزی کو بھی روکنا ہے۔

ترجمان نے اس سمجھوتے کی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے لیکن برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے ملک میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ سوموار کے روز دس سے کم دیہات کا کنٹرول شامی فورسز کے حوالے کیا گیا ہے۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے اس تمام عمل کی ایک مختلف کہانی بیان کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دیہات کو شامی فورسز کے حوالے کرنے کی کارروائی محض دکھاوے کے لیے تھی۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ’’ منبج ملٹری کونسل کے ارکان نے فوج کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور انھوں نے شامی پرچم لہرا دیے تھے۔اس تمام کارروائی کا مقصد ترکوں سے محاذ آرائی سے بچنا تھا‘‘۔شام کے سرکاری میڈیا نے اسدی فورسز کے دیہات پر قبضے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

منبج ملٹری کونسل کا کہنا ہے کہ ’’یہ ڈیل شامی حکومت کے بجائے روس کے ساتھ طے پائی تھی اور اس کا مقصد کونسل ،ترک فوج اور فرات کی ڈھال کو تقسیم کرنے والی لائن کا تحفظ ہے‘‘۔

کونسل نے گذشتہ ہفتے الباب شہر کے مشرق میں واقع متعدد دیہات پر فرات کی ڈھال فورسز کے حملوں کے بعد ان کو شامی فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ترکی صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ فرات کی ڈھال آپریشن کے اگلے مرحلے میں اب منبج شہر پر دھاوا بولا جائے گا۔اس شہر پر شامی ڈیمو کریٹک فورسز کا قبضہ ہے۔ تاہم ترکی نے سوموار کو واضح کیا تھا کہ وہ روس اور امریکا سے تعاون کے بغیر منبج میں کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔