.

موصل: عراقی افواج "البغدادی کے خطبے "والی مسجد کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی موصل میں عسکری آپریشن میں مصروف عراقی افواج مسجد النوری کے انتہائی قریب پہنچ گئی ہیں۔ یہ وہ ہی مسجد ہے جس میں جولائی 2014 میں داعش تنظیم کا سربراہ ابو بکر البغدادی پہلی مرتبہ خطیب کے روپ میں نمودار ہوا تھا۔ عراقی افواج کو موصل شہر کے جنوب مغرب میں مزید کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جب کہ امریکی فوجی ذمے دار کا کہنا ہے کہ موصل میں داعش تنظیم کی صفوں میں انارکی اور افرا تفری پھیل چکی ہے اور اس کے جنگجو باہمی ہم آہنگی سے محروم ہو گئے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت عراقی افواج کے شہر کے پرانے علاقے میں 300 میٹر تک اندر چلے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس علاقے میں سرکاری عمارتوں کو داعش تنظیم کے قبضے سے واپس لے لیا گیا ہے۔

وفاقی پولیس کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل شاکر جودت نے اخباری بیان میں واضح کیا ہے کہ "موصل کے قلب میں سرکاری کمپاؤنڈ کو واپس لیے جانے کی کارروائی کے دوران 139 داعشی مارے گئے۔ اس کے علاوہ گولہ بارود سے بھری 19 گاڑیوں ، مارٹر گولوں کو داغنے کے 36 پیڈز اور 55 طیارہ شکن بھاری توپوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی کے ادارے کے کمانڈر معن السعدی نے بدھ کے روز "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی فورسز مغربی موصل میں 3 علاقوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں جن کے نام الشہداء ، المنصور اور المعلمین ہیں۔

یاد رہے کہ عراقی حکومت نے 17 اکتوبر 2016 کو نینوی صوبے اور اس کے صدر مقام موصل شہر کو داعش تنظیم سے آزاد کرانے کے لیے ایک وسیع فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اس آپریشن میں امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی افواج کی معاونت بھی حاصل ہے۔