.

بشار کے لیے سب سے زیادہ جانیں دینے والے شہر میں مقابلہِ حُسن !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت کی وزارت سیاحت ساحلی صوبے طرطوس میں خواتین کا ایک مقابلہ حسن منعقد کرنے جا رہی ہے۔ یہ صوبہ بشار کی فوج کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے والا اہم ترین مرکز شمار کیا جاتا ہے۔ بشار حکومت کے دفاع میں اپنی جانیں گنوانے اور زخمی ہونے والے سب سے زیادہ افراد کا تعلق اسی صوبے سے ہے۔

مقابلہ حسن سے متعلق فیس بک پر سرکاری صفحے کے مطابق گزشتہ ہفتے کے روز متعلقہ کمیٹی نے مقابلے کے لیے ابتدائی طور پر خوبصورت دوشیزاؤں کا چناؤ کیا۔ اس موقع پر سرکاری وزارت سیاحت اور خواتین اتحاد کی نمائندگی کرنے والی شخصیات بھی موجود تھیں۔

پہلے مرحلے میں جانچ کے لیے کمیٹی کے سامنے 20 خواتین کو پیش کیا گیا۔ اگلے مرحلے کا انعقاد 15 مارچ کو ہوگا۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مقابلہ حسن کی تقریب سے حاصل آمدنی کو طرطوس سے تعلق رکھنے والے اُن افراد کے اہل خاںہ میں تقسیم کی جائے گی جنہوں نے بشار حکومت کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کو قربان کیا یا پھر زخمی ہوئے۔

بشار کے حامی ویب صفحات پر مقابلے میں شرکت کی امیدوار کئی خواتین کی تصاویر نشر کی گئی ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ نے 2014 میں اعلان کیا تھا کہ بشار حکومت کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کو گنوانے والے پچاس فی صد افراد کا تعلق اس ایک صوبے طرطوس سے ہے۔

طرطوس صوبے کے شہر بالخصوص ساحل پر واقع شہر اپنے اُن باسیوں کے قبرستانوں میں تبدیل ہو گئے جن کو بشار حکومت نے شامی عوام کے خلاف اپنی جنگ میں جھونک ڈالا۔ اس دوران شامی حکومت کے دفاع اور عوام کا خون بہانے میں شریک ایرانی ملیشیائیں.. طرطوس کے فرزندان کے مقابلے میں بہترین معاوضے اور تازہ کھانے کے انتظام سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔

اس سلسلے میں حمص شہر سے تعلق رکھنے والے شامی رکن پارلیمنٹ وائل ملحم نے کچھ عرصہ قبل بھانڈہ پھوڑتے ہوئے بتایا تھا کہ بشار کے ارکان کو "آلو کے ٹکڑے" ملتے ہیں جب کہ ایران کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے عناصر کو "گرم کھانا" دیا جاتا ہے۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے اُس وقت اس موضوع سے متعلق خبر نشر کی تھی۔