.

موصل کی ’جامع الکبیر‘ عراقی فوج کا اگلا ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج کی شمالی شہر موصل کے دائیں کنارے میں داعش کے خلاف پیش قدمی جاری ہے۔ گذشتہ شام تک عراقی سیکیورٹی فورسز مغربی موصل میں واقع ’جامع مسجد النوری الکبیر‘ کے قریب پہنچ گئے تھے جہاں اگلا ہدف اس مسجد کو باغیوں سے چھڑانا ہے۔

عراقی وفاقی پولیس کے ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز داعش کےخلاف جنگ میں پیش قدمی کرتے ہوئے جامع مسجد الکبیرکے قریب پہنچ گئے ہیں۔ مسجد کا کچھ حصہ اور اس کا جھکا ہوا مینار دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وہ مسجد ہے جہاں سے داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی نے سنہ 2014ء کے وسط میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔ یہ مسجد عراقی فوج کا اگلا ہدف ہے۔

خیال رہے کہ جامع مسجد النوری الکبیر کو ٹیڑھے مینار والی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مسجد موصل کے اہم ترین تاریخی مقامات میں سےایک ہے۔ بین الاقوامی تاریخی یاد گاروں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے جامع مسجد النوری پر داعش کے قبضے کے بعد تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مسجد کا وجود اب خطرے میں ہے۔

بارود سے بھری کاروں کے ذریعے حملے

ادھر اسی سیاق میں عراقی فوج کے کیپٹن حیدر الشمری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ گذشتہ روز داعشی دہشت گردوں نے مغربی موصل میں بارود سے بھری چار کاروں کے ذریعے عراقی فوج پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراقی فوج نے مغربی موصل میں بادش بجلی گھر پر فورسز نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

قبل ازیں عراقی فوج کے ’نینویٰ ہم آرہے ہیں‘ بریگیڈ کے آپریشنل چیف جنرل امیر رشید یار اللہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسداد دہشت گردی فورس نے تازہ کارروائیوں کے دوران العلمین، السایلو اور الزیادہ کالونیوں کو باغیوں سے آزاد کرانے کے بعد انہیں اپنی عمل داری میں لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ مغربی موصل میں عراقی فوج نے 19 فروری کو آپریشن شروع کیا تھا۔ اس سے قبل 24 جنوری کو موصل کے مشرقی حصے کو داعش سے مکمل طور پر آزاد کرانے کا اعلان کیا گیا۔

مغربی موصل مشرقی حصے سے چھوٹا ہے۔ شہر کا 40 فی صد رقبہ مغربی حصے میں ہے تاہم یہاں پر آبادی کی تعداد زیادہ ہے۔ تنگ گلیوں اور گنجان آباد ہونے کی وجہ سے عراقی فوج کو داعش کے خلاف جنگ میں دشواری کا سامنا ہے۔