.

داعش کے خاتمے کے بعد شام سے کوچ نہیں کریں گے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی مرکزی افواج کے کمانڈر جوزف فوٹل کا کہنا ہے کہ ان کی افواج شام میں امن او استحکام کو یقینی بنانے اور اقتدار کی پر امن منتقلی میں شامیوں کی مدد کے لیے وہاں طویل عرصے تک رہیں گی۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف جمعرات کے روز امریکی سینیٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی سے متعلق اجلاس میں کیا۔ جوزف کے بیان کے مطابق اس معاملے میں روایتی طور پر امریکی افواج کے باقی رہنے کی ضرورت ہے یعنی کہ ضروری نہیں کہ داعش کے خاتمے کے بعد شام سے کوچ کر لیا جائے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے داعش کے خلاف جنگ کو تیز کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی میرینز کے 400 مزید اہل کاروں کو شام بھیجا گیا ہے تاکہ الرقہ شہر پر حملے کی تیاری کی جا سکے جو شدت پسندوں کا عملی دار الخلافہ ہے۔

امریکی انتظامیہ نے جمعرات کے روز رواں ماہ کے اواخر میں اُن 68 ممالک کا وزارتی سطح کا ایک اجلاس منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جو داعش کے جنگ کے لیے بین الاقوامی اتحاد میں شریک ہیں۔ امریکا کی جانب سے یہ اقدامات عراق اور شام میں داعش کے خلاف گھیرا تنگ کیے جانے کے ساتھ بیک وقت سامنے آ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے وقت اس عہد کا اعلان کیا تھا کہ وہ داعش تنظیم کو "موت تک بم باری کا نشانہ" بنائیں گے۔ ٹرمپ نے باور کرایا تھا کہ ان کے پاس دہشت گردوں کو جلد ہزیمت سے دوچار کرنے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ ہے۔