.

الرقہ میں داعش کے زیرتسلط علاقوں سے 300 خاندان فرار

فرار ہونے والوں میں جنگجوؤں کے اہل خانہ بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں دولت اسلامی’داعش‘ کے زیرتسلط شہر الرقہ میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی طرف سے جاری آپریشن کے نتیجے میں شدت پسند گروپ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف بڑی تعداد میں شہریوں نے نقل مکانی بھی شروع کردی ہے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پرسوں جمعہ سے اب تک الرقہ سے 300 خاندان محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے الرقہ سے نکل چکے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کی طرف جاری کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ الرقہ سے 300 خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے۔ ان میں داعش سے وابستہ جنگجوؤں اور غیرملکی جنگجوؤں کے خاندان بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ الرقہ سے فرار کے بعد یہ لوگ مشرقی شام کے شہر دیر الزور اور جنوب مغرب میں حماۃ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا، عرب کمیونٹی اور کردوں کی حمایت یافتہ عسکری گروپ ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ نے گذشتہ برس نومبر میں امریکی مدد کے ساتھ الرقہ میں داعش کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔

ڈیموکریٹک فورسز الرقہ کے شمال، مغرب اور مشرق کی سمت میں داعش کی سپلائی لائن کاٹنے میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ داعش سے کئی اہم علاقے واپس لینے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے۔ ڈیموکریٹک فورس کے جنگجو اس وقت الرقہ کے شمال مشرق میں داعش کے مرکز سے صرف 8 کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔

الرقہ کی تین اطراف سے ناکہ بندی کے باوجود داعشی جنگجو اور اس کے حامی جنوبی سمت میں دریائے فرات کے کناروں کے ساتھ ساتھ فرار ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق آبزرویٹری کے مطابق شدت پسندوں کے اہل خانہ کشتیوں کے ذریعے دریائے فرات کے راستے فرار ہو رہے ہیں۔

داعش کے زیرقبضہ علاقے

الرقہ کا جنوبی حصہ اس وقت داعشی جنگجوؤں کا گڑھ ہے۔ امکان ہے کہ موجودہ آپریشن کے دوران داعشی جنگجو شہر کے مشرق میں دیر الزور اور مغرب میں مشرقی حماۃ کی طرف پیش قدمی کریں گے۔

اس وقت عراق کی سرحد سے متصل شہر دیر الزور کا بیشتر حصہ داعش کے قبضے میں ہے۔ دیر الزور کا ملٹری ہوائی اڈا دوسرے گروپوں کے پاس ہے۔ اسی طرح مشرقی حماۃ کے بیشتر حصے داعش کے قبضے میں ہیں۔

الرقہ میں داعش پر دباؤ بڑھنے کے بعد جنگجوؤں کے حماۃ اور دیر الزور کی طرف فرار کے قوی امکانات ہیں۔ داعش نے حالیہ عرصے کے دوران جنگ کا ایک نیا حربہ اپناتے ہوئے شہر کے تمام باشندوں کے لیے’افغانی لباس‘ لازمی قرار دیا تھا تاکہ جنگجوؤں اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہ کیا جاسکے۔

قبل ازیں جمعرات کو امریکا نے الرقہ کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے مزید 400 فوجی شام بھیجنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد شام میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد نو سو ہو گئی ہے۔