.

یمن: ترانے گانے والا یک دم حوثی باغیوں کا کمانڈر بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں عسکری اور سکیورٹی ادارے بھی باغیوں کے بے سروپا اقدامات سے محفوظ نہیں ہیں۔ ان شعبوں میں ایسے لوگوں کو ترقی اور مراتب پیش کیے جاتے ہیں جن کو عسکری امور کی الف باء بھی معلوم نہیں ہوتی۔

عبدالعظیم عزالدین اس کی واضح مثال ہے جو راتوں رات ترانے گانے والے سے کرنل کے عسکری عہدے تک پہنچ گیا۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مذکورہ فن کار اور باغیوں کا بھرپور مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

اسی طرح صعدہ کی سڑکوں پر بے روزگار پھرنے والا یمنی عبدالحکیم الخیوانی باغی حوثی ملیشیاؤں کے وزیر داخلہ سے زیادہ تمغے رکھتا ہے۔

عراق میں بھی اسی سے ملتی جلتی صورت حال ہے۔ فرقہ وارانہ فتوے سے جنم لینے والی شیعہ "پاپولر موبیلائزیشن" ملیشیا اپنی صفوں میں مجرموں کو بھرتی کرتی ہے۔

اوس الخفاجی ایک شیعہ مذہبی شخصیت سے "ابو الفضل العباس" ملیشیا کا ایک کمانڈر بن گیا۔ اس ملیشیا پر عراق اور شام میں وحشیانہ مظالم کے ارتکاب کا الزام ہے۔

اسی طرح ابو عزرائیل کی شخصیت میں ہمارے سامنے ایک اور مثال ہے۔ بے روزگاری کا شکار یہ شخص بنا کسی عسکری پس منظر کے یک دم میدانی کمانڈر بن گیا۔ اس کو "موت کے فرشتے" کا خطاب دیا گیا اور وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے ایک مثال بن گیا۔